سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 452
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 452 حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے بہت ہی معزز لوگوں میں سے ایک فرد ہو اور بزرگ آدمی ہوں، مگر ویرانے میں کیوں ڈیرہ لگا رکھا ہے۔اپنے وطن ، گھر بار، ہمسایوں کو چھوڑا اور یوں ویرانے میں آکر بس گئے آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ نے جواب دیا کہ میں فتنے کے خوف اور شر سے بچنے کے لئے شہروں کی آبادی اور رونق چھوڑ کر ویرانوں میں آکر بس گیا ہوں اور جب تک فتنے ٹل نہیں جاتے ، میرا یہی ارادہ ہے کہ میں ویرانوں میں یہ زندگی گزار دوں۔(9) خلفائے راشدین کے دور میں خدمات آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد حضرت عمرؓ کے زمانہ میں نمایاں خدمات حضرت محمد بن مسلمہ کے حصہ میں آئیں۔حضرت عمر نے آپ کو صدقات کی وصولی پر مقر فر مایا، جمہینہ قبیلہ اور بعض اور قبائل سے صدقات وصول کرنے کی ذمہ داری وہ بجالاتے رہے، اسی طرح حضرت عمر نے عمال کی نگرانی اور احتساب کا سلسلہ بھی شروع فرمایا۔اس اہم اور نازک کام میں مدد کے لئے آپ نے جس شخصیت کو چُنتا وہ حضرت محمد بن مسلمہ تھے۔(10) حضرت عمرؓ کے بارہ میں روایت ہے کہ جب وہ کوئی ایسی نازک مہم کسی کو سونپنا چاہتے ، جس کے بارہ میں چاہتے کہ وہ کام اس طرح ہونا چاہیے جیسا کہ وہ چاہتے ہیں تو وہ نازک کام حضرت محمد بن مسلمہ کے سپرد فرمایا کرتے تھے اور حضرت محمد بن مسلمہ کمال اطاعت سے جیسے حکم ہوتا تھا تمیل کرتے تھے۔اس وجہ سے حضرت عمرؓ نے بھی ان پر خوب اعتماد کیا۔چنانچہ مختلف علاقوں کے عمال اور امراء کے بارہ میں شکایتیں آتی تھیں۔آپ بلا تردد ان کی تحقیق کے لئے حضرت محمد بن مسلمہ کو روانہ فرماتے تھے اور حضرت محمد بن مسلمہ کمال حکمت اور دانش مندی سے حضرت عمر کی خدمت میں مکمل درست تحقیقات پیش کرتے تھے۔دراصل اس زمانہ میں اموال غنیمت آرہے تھے اور حضرت عمر یہ چاہتے تھے کہ مسلمان بہت جلد ان اموال میں اتنے منہمک نہ ہوں کہ محض دنیا دار ہو جائیں اُن روایات اور قدروں کو قائم رکھیں جو آنحضرت ﷺ اور آپ کے خلفاء راشدین نے قائم فرمائیں۔حضرت سعد بن ابی وقاص کوفہ کے امیر تھے اُن کے بارہ میں حضرت عمرؓ کو یہ شکایت پہنچی کہ انہوں نے محل تعمیر کروا دیا ہے اور اُس کے آگے گیٹ لگا کر دربان مقرر کر دیے ہیں۔ایک عام آدمی ان سے