سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 423
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 423 حضرت معاذ بن جبل انصاری رضی اللہ عنہ کا اجر عطا کرنے آئی ہے اور یہ اظہار بھی کیا کہ قبل اس کے کہ فتنوں کے زمانے آئیں میں تو یہ پسند کرتا ہوں کہ اسی طاعون سے ہی خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو جاؤں۔چنانچہ اسی طاعون کی بیماری میں آپ کی اہلیہ اور بچے بھی فوت ہوئے ، آپ نے کمال صبر کے ساتھ یہ صدمے برداشت کئے۔پھر آپ کی وفات ہوئی۔(17) یہ بھی دراصل نبی کریم ﷺ کی تربیت کا نتیجہ تھا۔حضور ﷺ کی زندگی میں ان کا ایک بیٹا فوت ہوا تو آپ نے انہیں ایک تعزیتی خط لکھا جس سے ان کے ساتھ حضور ﷺ کے تعلق کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور یہ بھی کہ آپ نے اپنے اصحاب کی کسی طرح تربیت فرمائی۔آپ نے ”بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کے بعد تحریر فرمایا:۔یہ خط محمد رسول اللہ کی طرف سے معاذ بن جبل کی طرف ہے۔آپ پر سلام ہو۔میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔اس کے بعد تحریر ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں عظیم اجر عطا کرے اور آپ کو صبر الہام کرے اور ہمیں اور آپ کو شکر کی توفیق دے۔(یا درکھو) ہماری جانیں، ہمارے مال اور ہماے اہل و عیال سب اللہ کی عطا ہیں۔یہ امانتیں ہیں جو اس نے ہمارے سپر دفرمائی ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس بچے کے عوض سچی خوشی نصیب کرے اور اس کی موت کے بدلے تمہیں بہت سا اجر برکتوں اور رحمتوں اور ہدایت کا عطا کرے۔اگر تم ثواب کی نیت رکھتے ہو تو صبر کرو اور واویلا کر کے اپنا اجر ضائع نہ کر بیٹھو کہ بعد میں تمہیں ندامت ہو اور جان لو کہ واویلا کرنے سے مردہ واپس نہیں آجاتا۔نہ ہی جزع فزع اور بے صبری غم کو دور کرتی ہے اور جو مصیبت انسان کے مقدر میں ہے وہ تو آنی ہی ہوتی ہے۔والسلام (18) دعا گو بزرگ حضرت معاذ بن جبل بہت دعا گو بزرگ تھے اور جو قرض ان پر چڑھ گئے ، اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں کثرت کے ساتھ خرچ کرنے والے اور بہت سخی مزاج بزرگ تھے جو بھی آپ سے سوال کرتا اسے کبھی واپس نہیں لوٹاتے تھے اللہ تعالیٰ کا بھی آپ کے ساتھ یہی معاملہ تھا۔چنانچہ کعب بن مالک کے صاحبزادے بیان کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا حضرت معاذ کے ساتھ عجیب سلوک تھاوہ