سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 424
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 424 حضرت معاذ بن جبل انصاری رضی اللہ عنہ نہایت حسین بھی تھے اور بڑے بھی بھی۔اور مستجاب الدعوات بھی تھے۔جو خدا سے مانگتے تھے اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرتا تھا اور اللہ تعالیٰ کا ان سے خاص معاملہ تھا، ایک عجیب فہم وفراست اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کی تھی۔علمی مقام حضرت عمر کے زمانے میں ایک بڑا پیچیدہ اور الجھا ہوا دینی مسئلہ سامنے آیا جو کم از کم مدت حمل اور انتہائی مدت سے تعلق رکھتا تھا۔علم طب کی رو سے بعض اوقات حمل نو ماہ کے عرصہ سے بڑھ بھی سکتا ہے اور شاذ کے طور پر زیادہ سے زیادہ مدت اس کی دو سال تک بھی ہو سکتی ہے۔ایک ایسا ہی واقعہ اس زمانہ میں سامنے آیا کہ ایک عورت کا شوہر دو سال سے غائب تھا اسے حمل ظاہر ہو گیا۔حضرت عمر کو جب اس بات کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اس عورت پر حد قائم ہونی چاہیے۔حضرت معاد بن جبل نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر اس عورت کو رجم کی سزادی جائے تو اس بچے کا کیا قصور جو اس کے پیٹ میں ہے۔اس پر حضرت عمر شرعی حد نافذ کرنے سے وقتی طور پر رک گئے۔پھر جب اس عورت کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو وہ اسکے حقیقی باپ کے عین مشابہ تھا۔دوسال بعد جب اس کا والد واپس لوٹا تو اس نے تسلیم کیا کہ یہ اس کا ہی بیٹا ہے۔شکل و شباہت سے بھی یہی ظاہر تھا۔حضرت عمر نے اس موقع پر فرمایا کہ عورتیں اس بات سے عاجز آگئی ہیں کہ معاذ جیسا بچہ پیدا کریں۔اگر معاد نہ ہوتا تو عمر ہلاک ہو جاتا۔“ جیسا کہ بیان ہو چکا ہے طاعون عمواس میں حضرت معاذ کی وفات ہوگئی۔حضرت عمرؓ نے بوقت وفات فرمایا اگر معاذ زندہ رہتے تو میں ان کو اپنے بعد اپنا جانشین نامزد کرتا اور اگر اللہ تعالیٰ اس بارہ میں مجھ سے سوال کرتا تو میں کہتا کہ آنحضرت ﷺ سے میں نے یہ سنا تھا کہ معاذ قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اس حال میں آئے گا کہ اس کی بلندشان اور بڑا مرتبہ ہوگا۔“ رسول کریم ﷺ کے اس ارشاد اور حضرت معاذ غیر معمولی علم سوجھ بوجھ اور خدا داد تقویٰ کی وجہ سے خلیفہ الرسول حضرت عمر بھی ان کی قدردانی کرتے تھے۔(19) حضرت معاذ بن جبل سے کئی صحابہ رسول بھی روایت کرتے تھے۔ان میں حضرت عمرؓ ، ان کے