سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 422 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 422

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 422 حضرت معاذ بن جبل انصاری رضی اللہ عنہ غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کا یہ عالم تھا کہ ایک دفعہ آپ اپنی اہلیہ کے ساتھ بیٹھے کچھ پھل تناول فرمارہے تھے اہلیہ نے ایک سیب اٹھایا ابھی ایک نوالہ ہی لیا تھا کہ غلام پاس سے گزرا ، بی بی نے وہ سیب اس غلام کو دے دیا۔حضرت معاد اس پر بھی خفا ہوئے اور انہیں تادیب فرمائی کہ اپنا جوٹھا سیب غلام کو دینا مناسب نہیں تھا۔(14) یہ گہرا دلی تقویٰ تھا جو حضرت معاذ کو عطا ہوا تھا۔حضرت معاذ آنحضور ﷺ کی نصیحتوں پر بھی خوب عمل کرنے والے تھے۔راتوں کو اٹھ کر عبادت کرنا اور پہلوؤں کا بستر سے جدا ہو جانا ، اس نصیحت پر بھی آخر دم تک خوب عمل کیا ہے۔احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ آپ تہجد کی نماز ادا کرتے تو خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتے ہوئے جو آہ و بکا ہوتی ایک حدیث میں اس کا نقشہ یوں ہے اپنے رب کے حضور عرض کرتے ”اے میرے مولا! اس وقت سارا جہاں سویا ہوا ہے آنکھیں سوئی ہوئی ہیں۔ستارے ڈوب چکے ہیں ، اے اللہ تو حی و قیوم ہے۔میں تجھ سے جنت کا طلب گار ہوں مگر اس میں کچھ سست رو ہوں اور آگ سے دور بھاگنے میں کمزور اور ناتواں ہوں، اے اللہ تو مجھے اپنے پاس سے ہدایت عطا کر دے، وہ ہدایت جو مجھے قیامت کے دن بھی نصیب ہو جس دن تو اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا۔‘ (15) محبت الہی اور راضی برضا حضرت معاذ بہت نڈر اور بے باک انسان تھے اور اللہ تعالیٰ سے ایک گہری محبت رکھتے تھے وفات کے وقت بھی آپ کی زبان پر جو کلے دعا کے جاری تھے اس میں یہی کہ رہے تھے۔اللھم عَمِّي غَمُّكَ فَوَ عِزَّتِكَ أَنَّكَ لَتَعلَمُ أَنِّي اُحِبُّكَ اے اللہ ! میرا غم تیرا غم ہو چکا ہے۔اور تیری عزت کی قسم تو جانتا ہے کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔(16) آپ کی وفات اس وبائی طاعون سے ہوئی جو شام کے علاقے میں پھیلی تھی۔پہلے جب حضرت ابو عبیدہ بن الجراح عمواس میں فوت ہوئے ہیں تو انہوں نے اپنے بعد اپنا قائمقام معاذ بن جبل کو مقرر کیا تھا۔بعض لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ طاعون سزا کے طور پر آئی ہے اس لئے ہلاکتیں ہورہی ہیں حضرت معاذ نے انہیں یہ سمجھایا کہ یہ طاعون تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رحمت ہے اور شہادت