سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 416
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 416 حضرت معاذ بن جبل انصاری رضی اللہ عنہ باجماعت چھوڑنی پڑی اور معاذ نے میرے منافق ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔آنحضرت ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل سے فرمایا ! اے معاذ کیا تم فتنہ پیدا کرنے والے ہو؟ پھر بڑے پیار ومحبت سے یہ سمجھایا کہ عشاء کی نماز کو زیادہ لمبی نہ کیا کریں کیونکہ اس میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور مزدور پیشہ لوگ بھی۔اس لئے مناسب ہے کہ عشاء کی نماز میں مختصر سورتیں پڑھیں جیسے والشَّمْسِ وَضُحَهَا يا سَبِّحُ اسْمَ رَبِّكَ الأعلى ہے یہ سورتیں پڑھ کر نماز مختصر کر لیا کریں۔(3) نحضرت ﷺ کی معاذ کے ساتھ محبت و شفقت کا عالم بھی عجیب تھا حضور ﷺ نے اس نوجوان کو اپنے زیرسایہ رکھ کر اعلیٰ تربیت فرمائی تھی۔حضرت معاد بیان کرتے ہیں ایک دفعہ آنحضور علیہ نے مجھے اپنی سواری کے پیچھے اپنے ساتھ سوار کر وایا اور فرمانے لگے کہ اے معالد بن جبل ! انہوں نے جواب دیا یا رسول اللہ علہ ! میں حاضر ہوں اور میری سعادت اور خوش بختی ہے کہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں حضور ﷺ نے تین مرتبہ معاد بن جبل کو آواز دی۔انہوں نے ہر مرتبہ ہی اسی فدائیت اور جانثاری کے انداز میں جواب دیا کہ یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں۔اس کے بعد حضور ﷺ نے انہیں ایک اہم حدیث سنائی۔آپ نے فرمایا ” جو شخص صدق دل سے کلمہ تو حید پڑھ لے اس پر دوزخ حرام ہو جاتی ہے۔حضرت معادؓ جبل بہت خوش ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! کیا میں اس بات کا لوگوں میں اعلان نہ کر دوں۔حضور علیہ نے فرمایا نہیں۔اعلان نہ کرو کہیں ایسا نہ کہ لوگ عمل کرنا چھوڑ دیں اور محض اسی بات پر ہی انحصار کر لیں۔چنانچہ حضرت معاذ بن جبل کی ایک اور روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور ﷺ نے ایک اور موقع پر مجھ سے یہ سوال کیا کہ اے معاد ! بندوں پر خدا کا کیا حق ہے؟ حضرت معاذ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا کہ بندوں پر خدا کا یہ حق ہے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اس کی عبادت کا حق ادا کریں پھر آنحضور ﷺ نے پوچھا۔اے معاذ! یہ بتاؤ کہ خدا پر بندوں کا کیا حق ہے تو حضرت معادؓ نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اگر بندے ایسا کریں شرک سے