سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 415 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 415

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم غزوات میں شرکت 415 حضرت معاذ بن جبل انصاری رضی اللہ عنہ مختلف غزوات میں شامل ہونے کی سعادت آپ کو نصیب ہوئی۔بدر، احد اور خندق میں حضور ﷺ کے ساتھ شریک تھے۔دیگر غزوات نبوی میں بھی شامل ہونے کا موقعہ ملا۔بعد کے زمانے میں جنگ یرموک میں بھی شامل ہوئے اور میمینہ کے افسر کے طور پر آپ نے اس تاریخی جنگ میں حصہ لیا۔نہایت بہادری اور دلیری سے اس میں لڑے۔ایک موقع پر جب گھمسان کا رن پڑ رہا تھا۔آپ اپنے گھوڑے سے اتر آئے اور فرمایا کہ جو اس گھوڑے کا حق ادا کر سکتا ہو وہ اس پر سوار ہو کر لڑے۔میں پیدل لڑوں گا اور بڑی بہادری سے پیدل لڑتے ہوئے آگے بڑھے۔رسول اللہ ﷺ کی فیض محبت اور پاکیزہ نصائح آنحضرت ﷺ کے فیض صحبت میں رہ کر آپ نے بہت کچھ سیکھا۔بہت علم حاصل کیا، آپ کی صحبت میں تربیت پائی۔حضور سے آپ کو ایک والہانہ عشق تھا۔مسجد نبوی سے سب سے دور افتادہ محلہ بنی سلمہ میں قیام تھا لیکن آنحضور ﷺ کے ساتھ آکر نماز پڑھنے کو ترجیح دیتے تھے۔محلے میں بھی آپ کو امام الصلوۃ مقرر کیا ہوا تھا اس لئے خاص طور پر عشاء کی نماز آنحضرت ﷺ کے ساتھ مسجد نبوی میں ادا کرنے کے بعد اپنے محلے کی مسجد میں جا کر امامت کرتے تھے۔کیونکہ قرآن شریف کا ایک بڑا حصہ آپ کو یاد تھا اور آپ کی قرآت نہایت عمدہ اور اعلیٰ تھی۔ایک دفعہ حضرت معاذ نے عشاء کی نماز بہت لمبی پڑھا دی ،سورۃ بقرہ کی تلاوت اس میں فرمائی۔ایک شخص جو اپنے کھیتوں میں کام کاج کر کے تھکا ہارا آیا تھا اس نے بھی آپ کے پیچھے نماز شروع کی لیکن جب یہ دیکھا اور محسوس کیا کہ یہ نماز تو زیادہ لمبی ہو چلی ہے، اس نے سلام پھیرا اور اپنی الگ نماز پڑھ کر وہ چلا گیا۔دوسری روایتوں میں یہ ذکر ہے کہ اس نے کھیت میں جا کر پھر پانی وغیرہ لگا نا تھا۔حضرت معاذ بن جبل کو جب علم ہوا تو انہوں نے اس بات کا بڑے دکھ کے ساتھ ذکر کیا کہ اس شخص نے نماز با جماعت کو چھوڑ کر نامناسب بات کی ہے اور یہ منافق ہے۔اس شخص کو جب پتہ چلا تو اس نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں جا کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھے مجبوری سے نماز