سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 417
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 417 حضرت معاذ بن جبل انصاری رضی اللہ عنہ اجتناب کریں ، عبادت کرنے والے ہو جائیں تو پھر خدا پر یہ حق بن جاتا ہے کہ وہ ان کو جنت میں داخل کرے اور دوزخ کی آگ اس پر حرام کی جاتی ہے۔(4) آنحضرت ﷺ کی صحبت میں تربیت پاتے ہوئے حضرت معادؓ بن جبل کی پسند اور ترجیحات خالصہ دینی ہو گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کی محبت اور اسکی خوشنودی حاصل ہو۔ایک موقعہ پر آنحضرت ﷺ نے ان سے دریافت کیا کہ اے معاذ! کیا میں تمہیں جنت کا ایک دروازہ نہ بتاؤں عرض کیا یا رسول اللہ ضرور بتائیں۔آپ نے فرمایا کہ یہ دعا پڑھا کرو۔لَاحَولَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔کوئی قوت اور کوئی طاقت کسی کو حاصل نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے۔(5) ایک اور موقع پر آنحضرت ﷺ نے حضرت معاذ سے فرمایا کہ اے معاذ! میں تم سے محبت کرتا ہوں۔میں تمہیں ایک دعا نہ بتاؤں۔پھر حضور علیہ نے ان کو ایک بہت ہی عمدہ اور خوبصورت دعا بھی سکھائی۔اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسُنِ عِبَادَتِكَ۔اے اللہ ! اپنے ذکر اور شکر کے لئے میری مدد فرما، اپنی خوبصورت عبادت کرنے کی مجھے توفیق دے۔ایک اور سفر میں حضرت معاذ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ کوئی ایسا عمل بتا ئیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اے معاذ تم نے بہت عظیم بات پوچھی ہے۔پھر حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہی کہ شرک نہ کرو، خدا تعالیٰ کی عبادت بجالا ؤ نماز ، زکوۃ ، اور رمضان کے روزے اور حج ادا کرو۔یہ وہ باتیں ہیں جو انسان کو بالآخر جنت میں لے جاتی ہیں۔پھر فرمایا کہ دو میں تمہیں خیر کے کچھ دروازے بھی بتاتا ہوں اور وہ یہ کہ روزہ ڈھال ہے اور صدقہ انسان کے گنا ہوں کو اس طرح ختم کر دیتا ہے کہ جس طرح آگ پانی کو بجھا دیتی ہے اور رات کے حصے میں نماز کا ادا کرنا یعنی تہجد کی نماز یہ بہت ہی بہترین اور خوب ہے۔یہ خیر کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور پھر حضور نے وہ آیت پڑھی۔تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وطَمَعًا - (السجدہ :17 ) کہ مومنوں کا یہ حال ہے کہ رات کی تنہائیوں میں آرام دہ بستروں سے ان کے پہلوں جدا ہو جاتے ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کو پکارتے ہیں خوف کی حالت میں بھی اور طمع کی حالت میں بھی۔پھر حضور ﷺ نے فرمایا ” ان تمام باتوں کی جڑ زبان ہے۔حضرت معاذ نے