سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 398
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 398 حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے تعجب سے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے بھی ٹھیک پڑھا اور اس نے بھی ٹھیک پڑھا ہے؟ تب حضور نے ابی کے سینے پر ہاتھ رکھ کر یہ دعا کی اللَّهُمَّ اذهِبُ عَن أَبي شَكَّا کہ اے اللہ ابی کے دل سے شک دور کر دے۔(5) حضور ﷺ کی مراد صحت تلفظ کے بارہ میں وسوسہ کی حد تک احتیاط یا دورانِ قراءت اس غلو سے تھی جو مناسب نہیں۔اسی طرح سہولت کی خاطر جو مختلف قرا اُتوں کی رخصت آغاز میں تھی اس سے فائدہ اٹھانے کی طرف اشارہ بھی تھا اور یہ سبق بھی کہ قرآن دنیا کی ساری قوموں کے لئے ہے جو اسے پڑھیں گے۔پس جسے جتنی بھی سہولت ہے اور اس کی زبان پر جیسے لفظ ادا ہوتا ہے اس کوشش سے یہ حق ادا ہو جاتا ہے تو اس میں بہت سختی جائز نہیں۔رسول اللہ سے تحصیل علم قرآن رسول اللہ ﷺ کی صحبت اور فیض کی برکت سے حضرت ابی کو تعلق باللہ میں ایک خاص مقام حاصل ہوا۔جس کا اظہار اس واقعہ سے خوب ہوتا ہے۔ایک دفعہ آنحضرت نے حضرت ابی سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں سور مہینہ کی تلاوت آپ کو سناؤں۔حضرت ابی حیران و ششدر تھے اور خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے۔عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا اللہ نے میرا نام لے کر فرمایا ہے کہ میں آپ کو قرآن شریف کی تلاوت سناؤں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں جبریل نے مجھے کہا کہ آپ کے رب کا ارشاد ہے کہ آپ یہ سورۃ ابی بن کعب کو سنائیں اور ملا علی میں تمہارا ذ کر اپنے نام اور نسب کے ساتھ ہوا۔کہنے لگے کیا تمام جہانوں کے رب کے حضور میرا نام لے کر ذکر ہوا۔آنحضرت نے فرمایا ہاں اللہ نے آپ کا نام لے کر مجھے ایسا ہی حکم دیا ہے۔حضرت ابی کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تیرنے لگے۔پھر رسول اللہ علہ نے حضرت ابی گوسورہ بینہ کی تلاوت سنائی۔(6) ترمذی کی روایت سے مزید یہ اشارہ ملتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کو حضرت ابی کے سامنے بطور خاص سورۃ بینہ پڑھ کر سنانے میں حکمت دراصل اس کے بعض اہم مضامین کی طرف ان کو توجہ دلانا تھی۔چنانچہ حضور نے انہیں سورہ بینہ سناتے ہوئے بعض جگہ رک کر کچھ زائد کلمات بطور تفسیر بھی ارشاد فرمائے۔جیسے یہ جملہ کہ اب اللہ کے نزدیک اصل دین یہودیت ، عیسائیت اور مجوسیت نہیں بلکہ موحد دین اسلام ہے۔آیت 7 میں الفاظ دین القیمہ “ کی تفسیر معلوم ہوتا ہے، اسی طرح