سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 397
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 397 حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ غزوہ احزاب کے موقع پر ایک کاری زخم آپ کو لگا جس کے نتیجے میں رگ کٹ گئی۔حضوراکرم نے ان کا علاج داغنے کے ذریعے کروایا اوراللہ تعالیٰ کے فضل سے شفایاب ہوئے۔(3) قبول اسلام کے بعد فن کتابت کے ہنر کے باعث بھی آپ کو غیر معمولی طور پر حضور اکرم ہے کی صحبت اور رفاقت کی نعمت عطا ہوئی۔مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں مختلف اہم مواقع پر حضور ﷺ کی معیت کا شرف حاصل ہوتا رہا۔قاری قرآن آنحضرت کے فیض صحبت سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔سب سے بڑی سعادت قرآن شریف سیکھنے لکھنے اور یاد کرنے کی تھی۔یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ نے آپ کو بہترین قاری کی سند عطا فرمائی۔حضور نے مدینے میں جن چار قراء سے بطور خاص قرآن شریف سیکھنے کی ہدایت مسلمانوں کو فرمائی ان میں حضرت ابی بن کعب بھی شامل تھے۔آپ کی قرآن شریف کی قراءت اور حفظ نہایت عمدہ تھا۔ایک موقع پر حضور مفجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔حضرت ابی قدرے تاخیر سے نماز میں شامل ہوئے۔اس دوران حضور ﷺ سے کوئی آیت پڑھنے سے رہ گئی مقتدیوں میں کسی کی توجہ ادھر نہ ہوئی۔حضرت اُبی نے نماز ختم ہونے کے بعد نہایت ادب سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول گیا قرآن شریف کی کوئی آیت منسوخ ہو گئی ہے یا حضور ﷺ پڑھنا بھول گئے ہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں کوئی آیت تو منسوخ نہیں ہوئی۔میں اس کا پڑھنا بھول گیا تھا۔یوں ان کا انتقانِ حفظ حضور نے قبول فرمایا۔(4) ایک دفعہ حضرت ابی کی ایک شخص سے تکرار ہوگئی جو قرآن شریف کسی اور لہجہ میں پڑھتا تھا حضرت ابی نے کہا کہ مجھے تو آنحضرت علیہ نے اس طرح پڑھایا ہے۔اس نے اصرار کیا کہ میں نے حضور کے سامنے اسی طرح پڑھا اور حضور ﷺ نے مجھے منع نہیں فرمایا۔حضرت ابی ان کو ساتھ لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ اللہ آپ نے مجھے فلاں آیت یوں پڑھائی ہے اور یہ صاحب کہتے ہیں کہ آپ نے ان سے دوسرے لہجے میں یہ آیت سن کر منع نہیں فرمایا۔حضور نے دونوں سے قرآن کی وہ آیت سنی اور فرمایا کہ دونوں نے ٹھیک پڑھا ہے۔حضرت ابی