سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 399 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 399

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 399 حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ آیت 10,9 میں عمل صالح کرنے والوں کی جزا کا ذکر ہے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ جوشخص بھی نیکی کرے گا اس کی ناقدری نہ کی جائے گی۔اور آخری آیت میں اپنے رب کی خشیت اختیار کرنے کا ذکر تھا جس میں دنیا داری اور مال روک بن سکتا ہے۔اس کی تفسیر میں فرمایا اگر ابن آدم کے لئے مال کی ایک وادی ہوتو وہ اس کے ساتھ دوسری وادی چاہے گا اور اگر دوسری وادی مل جائے تو تیسری کا تقاضا کرے گا۔اور ابن آدم کا پیٹ سوائے مٹی کے کوئی چیز نہیں بھرتی اور اللہ تعالیٰ اس پر رجوع برحمت ہوتا اور تو بہ قبول کرتا ہے جو خود جھکتا اور خشیت اختیار کرتا ہے۔(7) پس یہ رسول اللہ کی برمحل تفسیر کا بیان تھا نہ کہ سورۃ بینہ میں کوئی اضافہ جو بعد میں منسوخ ہو گیا جیسا کہ بعض لوگ غلط فہمی سے یہ خیال کرتے ہیں۔آپ کے ایک شاگر د عبدالرحمن کہتے تھے کہ میں نے ابی سے عرض کیا کہ یہ بات سن کر تو آپ بہت خوش ہوئے ہونگے۔حضرت اُبی نے کہا کہ تو کیا مجھے خوش نہیں ہونا چاہیے تھا؟ جبکہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا (یونس: 59) اللہ کے فضل اور اس کی رحمتوں کو یاد کر کے خوش ہوا کرو اور اتنے بڑے فضل الہی اور رحمت خداوندی پر کہ بارگاہ الہی میں میرا ذ کر ہوا میں کیونکر خوش نہ ہوں۔(8) یہ سعادت بھی حضرت ابی کو عطا ہوئی کہ حضور علمی لحاظ سے ان کی تربیت کے ساتھ ان کا امتحان بھی کرتے رہتے تھے۔چنانچہ ایک موقع پر حضور نے حضرت ابی سے پوچھا کہ قرآن شریف کی کونسی آیت ایسی ہے جسے سب سے عظیم کہا جانا چاہیے؟ حضرت اُبی نے کمال ادب سے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔مگر جب حضور نے اصرار سے پوچھا تو حضرت ابی نے عرض کیا یا رسول اللہ آیت الکرسی ایسی آیت ہے جسے قرآن کریم کی عظیم آیت کہنا چاہیے۔آنحضور ﷺ نے حضرت ابی کو اس موقع پر دربار رسالت سے سند علم عطا کرتے ہوئے فرمایا کہ اے ابی اللہ تیر علم مبارک کرے۔واقعہ آیت الکرسی ہی قرآن کی عظیم آیت ہے۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔یہ وہ آیت ہے جو اللہ تعالیٰ کی بادشاہت ، قدوسیت اس کی شان اور عظمت بیان کرتی ہے۔آپ نے فرمایا گویا اس سورت کی زبان اور ہونٹ ہیں جن سے اُس خالق کا ئنات کی تقدیس