سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 383 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 383

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 383 حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ خود تو مسلمان نہ ہوا مگر عرض کیا کہ ہمارے قبائل میں تبلیغ اسلام کے لئے آپ کچھ لوگ بھجوائیں جو ہمیں دین اسلام سکھائیں تا کہ ہمارے قبیلے کے لوگ بھی اسلام میں داخل ہوسکیں۔ان قبائل میں بھی اسلام کا پیغام نہیں پہنچا تھا۔حضور نے فرمایا کہ مجھے اہل نجد سے خدشہ ہے کہ انہیں نقصان نہ پہنچائیں۔اس نے کہا اس کا میں ذمہ دار ہونگا اور میری امان ہوگی۔(4) حضور نے از راہ احتیاط بجائے ایک یا دو افراد کو بھجوانے کے ستر افراد پر مشتمل ایک قافلہ تیار کیا اور حضرت حرام بن ملحان کو اُن کا امیر مقرر فرمایا اور یہ قافلہ بنی عامر کی طرف روانہ ہوا۔جب یہ لوگ وہاں پہنچے تو حضرت حرام بن ملحان نے محسوس کر لیا کہ معاملہ کچھ دگرگوں ہے اور ان مخالفین اسلام نے ہمیں دھوکہ دے کر تبلیغ اور تعلیم قرآن کے نام پر بلایا ہے۔حالانکہ وہ ان کے خون کے پیاسے ہیں اور موقع پاکر ان کی جانیں لینا چاہتے اور مسلمانوں کو بہت بڑا نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔حضرت حرام نے یہ محسوس کر کے اپنے قافلے کو بعض احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ہم سب وہاں اکٹھے جا کر پیغام نہ پہنچائیں تاکہ سارے کے سارے ان کے گھیرے میں نہ آجائیں بلکہ ایک بڑا گروہ پیچھے موجود رہے۔پہلے میں خود اور میرا ایک ساتھی آگے پیغام پہنچانے کے لئے جائیں گے اگر تو وہ ہمارے ساتھ حسن معاملہ کریں اور محبت و امن سے پیش آئیں تو پھر باقی لوگ بھی آگے آجائیں اور پیغام اسلام کا فریضہ ادا کریں اور اگر ہمارے ساتھ ہی ان کا معاملہ اچھا نہ ہوا، تو پھر جو لوگ پیچھے ہونگے ان کو حسب حال فیصلہ کرنا ہوگا۔یہ ایک نہایت دانشمندانہ اقدام اور عمدہ حکمت عملی تھی جو حضرت حرام بن ملحان نے پیش آمدہ حالات میں مرتب فرمائی۔اس فیصلہ کے مطابق وہ آگے بڑھ کر اسلام کا پیغام پہنچانے لگے۔اسی دوران بنی عامر کے سردار نے اپنے بعض ساتھیوں کو اشارہ کیا۔وہ نیزوں کے ساتھ حضرت حرام بن ملحان پر حملہ آور ہو گئے۔نیزہ ان کے گلے کی رگ میں پیوست ہوا اور خون کا ایک فوارہ چھوٹا۔حضرت حرام بن ملحان نے اپنے ہاتھ سے اوک بنائی۔اس میں وہ خون لے کر اپنے چہرے پر چھڑ کا اور بآواز بلند دو دفعہ یہ نعرہ بلند کیا۔فزت وَرَبِّ الْكَعْبَةِ۔کعبہ کے رب کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔بعد میں وہ حالات اور واقعہ دیکھنے والے لوگوں نے بیان کیا کہ ہم حیران ہو کر کہتے تھے کہ اس شخص کی