سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 382 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 382

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 382 حضرت حرام بن ملحان حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ حضرت حرام بن ملحان کا تعلق قبیلہ بنو نجار سے تھا۔وہ سعادت مند قبیلہ جسے آغا ز اسلام میں ہی آنحضرت ﷺ کی تائید و نصرت کی توفیق ملی۔والدہ ملیکہ بنت مالک تھیں۔وہ اُس اخلاص پیشہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے اپنا سب کچھ اپنے آقا ومولا حضرت محمد مصطفی پر فدا کر دیا تھا۔ان کی ایک بہن حضرت ام سلیم تھیں جو ابوطلحہ انصاری کی اہلیہ تھیں ان کے صاحبزادے انس بن مالک خادم رسول ہیں۔جنہیں دس سال تک نبی کریم ﷺ کی خدمت کی توفیق ملی گویا حضرت حرام حضرت انس بن مالک کے ماموں تھے۔خود ان کی بہن ام سلیم خاندان نبوی اور آنحضرت ﷺ کی ازواج اور آپ کے گھر کی خدمات میں پیش پیش ہوتی تھیں۔آنحضرت کی عاشقہ صادقہ تھیں۔(1) ان کی دوسری بہن حضرت ام حرام محضرت عبادہ بن صامت کی اہلیہ تھیں جن کی خواہش پر آنحضرت نے اُن کے حق میں خاص دعا کی۔جس کے طفیل انہیں سمندر پار سفر کرنے کی سعادت اسلامی بحری بیڑے میں میسر آئی۔(2) ہجرت مدینہ کے ابتدائی دور میں حضرت حرام بن ملحان کی شہادت کا واقعہ نہایت ہی عظیم الشان ہے۔جس میں آپ نے ایک حیرت انگیز قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔وہ مدینہ میں حضور علیہ کے فیض محبت سے تربیت یافتہ تھے۔اس زمانہ میں جس قدر قرآن شریف نازل ہو چکا تھا۔اسے حفظ کر کے انہوں نے قاری کا لقب پایا۔دیگر نو جوانوں کو بھی قرآن شریف سکھاتے تھے اور اصحاب صفہ جو مسجد نبوی کے ایک مسقف چھتر نما چبوترہ میں رہتے تھے اُن کی خدمات میں آپ پیش پیش ہوتے تھے، اُن کے لئے پانی بھر کے لاتے ، خوراک کا بندو بست کرتے ہلکڑیاں کاٹ کر بیچتے اس سے خوراک کا انتظام کرتے اور ان کمزور اور فقراء صحابہ کی خدمت میں صرف کر دیتے۔اور انہیں لکھنا پڑھنا سکھاتے تھے۔(3) دعوت الی اللہ کی راہ میں جان کی قربانی ایک دفعہ قبیلہ بنی عامر کا ایک وفدا اپنے سردار عامر بن الطفیل کی سرکردگی میں آنحضرت