سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 384
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 384 حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ عجب حالت ہے نیزہ لگنے کے بعد جب اس کی موت یقینی ہے اور خون بہہ رہا ہے۔یہ کیسا شخص ہے کہ اپنی ہلاکت پر کامیابی کے نعرے بلند کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔انہیں کیا معلوم کہ وہ کامیابی جس کا اعلان حضرت حرام بن ملحان کر رہے تھے ، یہ خدا تعالیٰ کی خاطر اپنی جان کی قبولیت اور شہادت کا مرتبہ اور اعزاز پانے کی قربانی تھی ، جو خدا تعالیٰ کے دربار میں مقبول ہوگئی۔اس کے بعد بنی عامر قبیلہ کے لوگ باقی قافلہ پر حملہ آور ہو گئے سوائے دو افراد کے جنہوں نے بھاگ کر جان بچائی باقی سب اصحاب رسول ﷺ کو انہوں نے تہہ تیغ کر دیا۔(5) شہداء بئر معونہ کی دعا اور رسول اللہ اللہ کو ان کی اطلاع یہ تمام اصحاب رسول جو خدا تعالیٰ کی راہ میں پیغام پہنچانے اور دعوت الی اللہ کے لئے نکلے تھے خدا کی راہ میں شہید ہو گئے۔یہ واقعہ اسلامی تاریخ میں بئر معونہ کے نام سے مشہور ہے۔حضرت حرام بن ملحان اور ان کی ساتھیوں نے اس موقع پر خدا تعالیٰ کے حضور ایک دعا کی کہ اے اللہ ہماری یہ شہادتیں اور ہماری یہ جانی قربانیاں جو تیری راہ میں ہم پیش کر رہے ہیں قبول فرمالے۔“ اور اس آخری وقت میں ہماری یہ التجا بھی ہے کہ ہم سب تو یہاں تیری راہ میں جان دے رہے ہیں اور ہمارے آقا آنحضرت ﷺ کو اس واقعہ کا کوئی علم نہیں اور اس سرزمین میں تیرے سوا ہمارا کوئی ہمدردو ہاں خبر پہنچانے والا بھی نہیں۔اللَّهُمَّ بَلَغُ عَنَّا نَبِيَّنَا۔اے اللہ! ہمارا اسلام اپنے رسول اے تک پہنچا دینا اور انہیں ہماری خبر کر دینا۔(6) چنانچہ حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ان جانیں قربان کرنے والوں کی دعا خدا تعالیٰ نے اس رنگ میں قبول کی کہ حضرت جبریل نے آنحضرت علیہ تک نہ صرف ان صحابہ کا سلام پہنچایا بلکہ اُن کے تمام احوال اور ان کی شہادت کی اطلاع کی کہ وہ راضی برضا ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور اپنی جانوں کی قربانی پیش کر چکے ہیں۔یہ اطلاع جب وحی الہی کے ذریعہ آنحضرت ﷺ تک پہنچی۔آپ نے صحابہ کو یہ روح فرسا خبر سنائی۔حضور اور آپ کے اصحاب کو اچانک ستر کے قریب صحابہ کی شہادتوں سے بہت رنج و غم بھی ہوا اور تکلیف بھی پہنچی۔حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ ہم ان کے بارے میں اس وحی کے الفاظ ( قرآن کی طرح) ایک زمانے تک پڑھا کرتے تھے کہ ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم