سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 373 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 373

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 373 حضرت اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ حضرت اسیڈ کی خوبیوں کو پہچانتے ہوئے زیڈ کے ساتھ حضور نے یہ مؤاخات قائم فرمائی۔(3) غزوات میں شرکت حضرت اُسید بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے اور جب آنحضرت علی غزوہ بدر سے واپس تشریف لائے ہیں تو حضرت اسید نے آنحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کفار پر فتح عطافرمائی اور آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔میں اس غزوہ سے اس وجہ سے پیچھے رہ گیا میرا خیال تھا کہ اس میں صرف دشمن کے قافلہ سے مڈ بھیٹر ہوگی۔اگر مجھے پتہ ہوتا کہ دشمن کے ساتھ مقابلہ ہے تو خدا کی قسم میں لازماً آپ کے ساتھ بدر کے میدان میں نکلتا اور ہر گز پیچھے نہ رہتا۔رسول کریم حضرت اسید کے اخلاص سے خوب واقف تھے فرمانے لگے تم نے بالکل سچ کہا ہے۔پھر بعد کے غزوات میں حضرت اسیڈ نے جہاد کا خوب حق ادا کیا۔وہ احد میں آنحضور علی کے شانہ بشانہ شریک ہوئے۔جب دوسری دفعہ حملہ ہوا جس میں بعض لوگوں کو پیچھے بھی ہٹنا پڑا۔اس وقت بھی اسید ثابت قدم رہے احد کے میدان میں ان کو سات زخم آئے۔اسی طرح غزوہ خندق میں بھی آنحضرت علی کے ساتھ شریک ہوئے بلکہ دوسوسپاہیوں کے ساتھ خندق کا پہرہ دینے کی سعادت بھی آپ کو ملتی رہی۔خندق کے موقع پر ایک سخت امتحان کا وقت آیا جب غطفانی قبیلہ کی طرف سے حملہ کا خطرہ پیدا ہوا۔آنحضرت ﷺ نے مشورہ کیلئے انصار کے بعض سرداروں کو بلایا۔ان تمام مشوروں میں حضرت سعد بن معاذ کے ساتھ حضرت اسید بن حضیر بھی شریک تھے۔انہوں نے ہی ان غطفانیوں کا یہ مطالبہ رد کرنے کا مشورہ دیا کہ مدینہ کی آدھی پیداوار ہمیں دے دو تو ہم تمھارا ساتھ دیں گے بڑے عزم اور استقلال کے ساتھ وہ اس ابتلاء میں آنحضرت کے ساتھ ثابت قدم رہے تھے۔دو عرب سردار عامر بن طفیل اور زید جب مدینہ آئے اور مدینہ کی کھجور کے حصہ کا مطالبہ کیا تو اسید بن حضیر اپنا نیزہ ان کے سر میں ٹھوکنے لگے اور کہا اے لومڑو ! یہاں سے چلے جاؤ۔عامر نے کہا تم کون ہو؟ کہا اسید بن حضیر۔وہ بولا حضیر کتائب؟ کہا۔ہاں۔وہ بولا تمہارا باپ تم سے بہتر تھا۔حضرت اسیڈ نے کہا میں تم اور اپنے باپ سے بہتر ہوں۔کیونکہ میرا باپ حالت کفر میں مر گیا۔(4)