سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 372 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 372

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 372 حضرت اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ بڑی سختی سے انہیں تبلیغ سے منع کیا اور کہا تم ہمارے لوگوں کو بے وقوف بنانا چھوڑ دو، اپنے گھر میں بیٹھے رہو۔جو تمھارے پاس آئے اسے بے شک یہ تعلیم دو لیکن ہمارے محلہ میں گھر گھر یہ پیغام پہنچانے کی ضرورت نہیں۔حضرت مصعب کو حضرت اسعد بن زرارہ نے بتا دیا تھا کہ یہ شخص قبیلہ کا سردار ہے۔اگر آپ نے اسے زیر کر لیا تو سمجھو کہ یہ قبیلہ اسلام کی گود میں ہے۔چنانچہ حضرت مصعب نے نہایت محبت پیار اور نرمی سے انہیں اسلام کا پیغام پہنچایا۔کہنے لگے دیکھو آپ ایک بزرگ سردار ہو۔ہماری بات سن کے تو دیکھو اگر بھلی لگے تو قبول کرنا ورنہ رد کر دینا۔حضرت اُسید واقعتا بڑے زیرک انسان بڑے لائق اور صائب الرائے تھے۔انہوں نے کہا کہ بات تو تمھاری درست ہے اور پھر ان کی باتیں سنے کیلئے بیٹھ گئے۔انہیں قرآن شریف سنایا اور اسلام کا پیغام پہنچایا وہ سن کر کہنے لگے یہ تو بہت ہی حسین پیغام ہے۔مجھے بتاؤ کہ مسلمان ہونے کی کیا شرائط ہیں۔حضرت مصعب بن عمیر نے بتایا کہ آپ کلمہ توحید ورسالت پڑھ کر اسلام میں داخل ہو جاؤ گے پھر اسلام کی تعلیم کے مطابق نماز اور عبادت بجالانی ہوگی تو کہنے لگے کہ یہ باتیں اپنی جگہ مگر میرا ایک بھائی اور بہت پیارا دوست قبیلہ کا سردار سعد بن معاذ ہے۔اسے کسی طرح اسلام میں داخل کرو پھر یہ سارا قبیلہ اسلام میں داخل ہو جائے گا۔چنانچہ حضرت اُسید کمال حکمت عملی کے ساتھ سعد بن معاذ حضرت مصعب کے پاس لے کر آئے اور حضرت مصعب نے کمال دانش مندی اور حکمت سے محبت بھرے انداز میں ان تک اسلام کا پیغام پہنچایا اور حضرت سعد نے اسلام قبول کر لیا اور یوں حضرت اسیڈ کے توسط سے نہ صرف اکیلے سعد اسلام میں داخل ہوئے بلکہ انکے مسلمان ہونے کے بعد شام تک ان کا تمام قبیلہ اسلام میں داخل ہو گیا۔(2) حضرت اسید معقبہ ثانیہ میں شریک ہوئے۔نبی کریم ﷺ نے انصار میں جو بارہ سردار یا تعقیب مقرر فرمائے تھے ان میں سے ایک حضرت اسید بھی تھے جنہیں آپ نے بنی عبد الاشہل کا سردار مقرر فرمایا تھا۔مدینہ میں بعد میں جو مواخات کا سلسلہ ہوا تو اس میں آنحضرت نے حضرت اسید بن حضیر کا بھائی حضرت زید بن حارثہ کو بنایا۔اس سے بھی آنحضرت کے ان کے ساتھ تعلق محبت کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ زید جو آنحضرت ﷺ کے منہ بولے بیٹے تھے اور جن سے حضور نہایت پیار اور محبت کا تعلق رکھتے تھے۔