سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 374
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 374 حضرت اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ حضرت اسید گواہل بیت کے ساتھ بہت عقیدت اور محبت کا تعلق تھا۔غزوہ بنو مصطلق کے موقع پر جب حضور واپس مدینہ تشریف لا رہے تھے۔حضرت عائشہ گا ہارگم ہو گیا۔مسلمانوں کے پاس پانی نہیں تھا اور کوئی چشمہ بھی پاس نہ تھا نماز کا وقت ہو گیا ، وضو کیلئے پانی میسر نہ تھا لوگ سخت حیران و پریشان تھے حضرت ابوبکر حضرت عائشہ گوڈانٹنے لگے کہ یہ کیا سلسلہ ہے آپ کے ہار ہی گم ہوتے رہتے ہیں اس کی وجہ سے مسلمان تکلیف میں ہیں۔نماز پڑھنی ہے اور وضو کیلئے پانی میسر نہیں۔چنانچہ اس موقعہ پر تیم کی آیات اتریں کہ اگر پانی نہ ملے تو پاک مٹی کا قصد کر کے اس پر ہاتھ پھیر کر نماز ادا کر لی جائے یہ وضوء کا قائمقام ہے۔یہ ایک بہت بڑی سہولت اور رخصت تھی۔اس موقع پر حضرت اسید بن حضیر نے نہایت خوبصورت تبصرہ حضرت عائشہ کے بارے میں کیا جس سے ان کی اہل بیت سے عقیدت اور محبت خوب چھلکتی ہے انہوں نے کہا ماهِيَ بَاوّل بَرَكَتِكُم يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ اے آل ابو بکر تمھاری پہلی برکت تو نہیں۔پہلے بھی ہم نے آپ کے ذریعہ بہت برکات پائی ہیں۔یوں آنحضرت کے ساتھ محبت اور عقیدت کے باعث حضرت اسید بن حضیر کا آل ابی بکر حضرت عائشہ اور اہل بیت سے بھی ایک عقیدت کا تعلق تھا۔صلح حدیبیہ کے بعد ابو سفیان نے ایک شخص کو آنحضرت ﷺ کے قتل کیلئے روانہ کیا۔وہ مدینہ آ کر حضور ﷺ کی مجلس تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔خنجر اس نے چھپا رکھا تھا حضرت اسید نے کمال دانشمندی سے اس شخص کی حرکات کو پہچان لیا اور آنحضرت ﷺ نے بھی نشاندہی فرما دی کہ یہ شخص حملے کے ارادے سے آیا ہے۔چنانچہ حضرت اسید بن حضیر مستعد ہو کر بیٹھ گئے جونہی وہ شخص آگے بڑھا اسیڈ نے اس کی لنگی ( نہ بند ) کو کھینچا اور اس کے اندر سے خنجر برآمد ہوا۔وہ ڈرا کہ اب یہ مجھے پکڑیں گے ، اس نے حملے کی کوشش کی۔حضرت اسید بن حضیر نے اسے دبوچ لیا۔یہ حضرت اسیڈ کی زیر کی اور بہادری تھی کہ وہ حملہ آور نا کام ہو گیا۔الغرض حضرت اسید کا شمار رسول کریم ﷺ کے عالی مرتبت صحابہ میں ہوتا تھا ان کی انہیں خوبیوں کی وجہ سے آپ قرمایا کرتے تھے نِعمَ الرَّجُلُ اُسید کہ اسید بن حضیر کتنا اچھا آدمی ہے۔اہل بیت سے انکے تعلق اور عقیدت کا ایک واقعہ حضرت عائشہ اس طرح بیان فرماتی ہیں کہ