سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 371
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نام و نسب 371 حضرت اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ حضرت اسید بن حضیر انصاری حضرت اسید بن حضیر بن سماک کا تعلق اوس کی شاخ بنوعبدالا شہل سے تھا۔آپ کے والد حضیر اور والدہ دونوں ہی قبیلہ اوس کی اسی شاخ سے تعلق رکھتے تھے۔والد حضیر کتائب“ کے لقب سے مشہور تھے قبیلہ اوس کے مشہور شہ سوار اور رئیس تھے۔اوس اور خزرج میں جو جنگیں آنحضرت ﷺ کے مدینہ تشریف آوری سے پہلے ہوئیں ان میں اوس قبیلہ کی قیادت اسید کے والد حقیر نے کی اور اس جنگ میں فتح پائی تھی۔ان کا مشہور قلعہ واقم تھا جہاں یہ قلعہ بند ہوئے۔اسی جنگ بعاث میں حفیر مارے گئے تھے۔اپنے والد کے بعد اسید بن حضیر قبیلہ کے سرداروں میں سے تھے۔نہایت ذہین صاحب عقل اور صائب الرائے انسان تھے اور شرفاء میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔آپ لکھنا پڑھنا بھی جانتے تھے۔تیر اندازی اور تیرا کی کے ماہر تھے اور اس زمانے میں یہ تمام خوبیاں جس شخص کے اندر جمع ہوا کرتی تھیں اسے ” کامل یعنی ہر فن مولی کا خطاب دیا جاتا تھا اور یہ خطاب اپنے باپ کی طرح حضرت اسید نے بھی ورثہ میں پایا۔(1) قبول اسلام حضرت اُسیڈ کو مدینہ کے پہلے مبلغ اسلام حضرت مصعب بن عمیر کے ذریعہ قبول اسلام کی سعادت عطا ہوئی۔حضرت مصعب جب مدینہ تشریف لائے اور حضرت اسعد بن زرارہ کے گھر میں قیام فرما کر مدینہ کے مختلف محلوں میں دینی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔حضرت سعد بن معاذ جوقبیلہ اوس کے سرداروں میں سے تھے انہوں نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت اسیڈ سے کہا کہ آپ جا کر حضرت مصعب کو اس بات سے روکیں کہ وہ ہمارے لوگوں کو بے وقوف نہ بنائے اور اگر اسعد بن زرارہ درمیان میں نہ ہوتے تو میں خود جا کر ان کو منع کرتا۔چنانچہ اسیڈ اپنا نیزہ لے کر کھڑے ہوئے اور اس مجلس میں چلے گئے جہاں حضرت مصعب بن عمیر لوگوں کو دین کی تعلیم دے رہے تھے۔اسیڈ نے