سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 296
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 296 حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ لیا کہ آپ نے بلال کو فتح کا جھنڈ ا عطا کر کے فرمایا کہ " اے بلال! اسے جو ن مقام پر گاڑنا۔اور پھر مکہ کی وادی میں جہاں بلال کو اذیتوں کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ایک اعلان بہت ہی تعجب سے سنا گیا جو یہ تھا کہ آج جو بلال تھبیشی کے جھنڈے کے نیچے آجائے گا اُسے امان دی جائے گی یہ بلال کے لئے کتنا بڑا اعزاز تھا۔ان کے تمام دکھوں اور ان پر کئے گئے مظالم کا کیسا حسین انتقام تھا۔(17) پھر آنحضرت علہ جب خانہ کعبہ میں تشریف لے گئے تو اُس وقت بھی حضرت بلال آپ کے ساتھ تھے۔اور حضرت بلال بیان کیا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے خانہ کعبہ کے عین وسط میں ستونوں کے درمیان دو نوافل ادا فرمائے۔دنیا تو فتح کے شادیانے بجایا کرتی ہے۔مگر محمد ﷺ نے اپنی عظیم فتح کا نقارہ بجانے کے لئے بھی تو حید کے مضمون کا انتخاب فرمایا اور ظہر کے وقت آپ نے حضرت بلال کو ہدایت فرمائی کہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر آپ اذان کہو اور یوں تو حید کی منادی اور آنحضرت ﷺ کی رسالت کے اعلان کے ذریعہ سے جو حضرت بلال نے کیا مکہ میں فتح کا نقارہ بجایا گیا۔(18) برکات صحبت رسول الله حضرت بلال آنحضرت ﷺ کے ساتھ غزوات حنین میں بھی شریک تھے۔اس سفر سے واپسی پر ایک بدو نے اس وقت آپ سے کچھ مال مانگا جبکہ آپ تقسیم فرما چکے تھے۔آپ نے فرمایا تمہیں بشارت ہو کہ آئندہ مال ملے گا اس نے کہا ہمیں بشارتوں کے ہی وعدے ملتے ہیں۔مال دینا ہے تو دیکھیئے تب آپ نے جوش میں آکر حضرت بلال سے فرمایا " یہ تو بشارت قبول نہیں کرتے تم ہی یہ بشارت قبول کر لو اور بلال کو بلا کر حضور ﷺ نے اپنا بچا ہوا پانی دیا ان کے ساتھ ابو موسی اشعری بھی تھے۔حضرت ام سلمہ پر دے میں سے بولیں کہ اے بلال اپنی ماں کے لئے بھی اس بابرکت پانی میں سے کچھ بچا لینا۔(19) بلال نے رسول اللہ ﷺ کو بہت قریب سے دیکھا اور آپ کی سچائی کے بہت سے نشانوں کے گواہ بنے۔اُم مالک انصاریہ رسول اللہ لینے کے لئے گھی کا تحفہ چمڑے کے ایک برتن میں لے کر حاضر ہوئیں۔حضور نے بلال کو فرمایا کہ گھی نکال کر برتن واپس کر دیں۔انہوں نے ایسا ہی کیا مگر