سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 297
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 297 حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ خاتون نے دیکھا کہ اس کا برتن بھرا ہوا ہے۔اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا میرے بارے میں کوئی نئی بات بذریعہ وحی ظاہر ہوئی ہے۔آپ نے استفسار فرمایا کہ کیوں کیا ہوا؟ عرض کیا آپ نے میرا تحفہ واپس لوٹا دیا۔رسول اللہ ﷺ نے بلال کو بلا کر پوچھا۔انہوں نے عرض کیا میں نے تو گھی کا برتن ایسے نچوڑ لیا تھا کہ مجھے خود سے شرم آنے لگی تھی۔تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے خاتون! تجھے مبارک ہو یہ تو برکت ہے جو فوری ثواب اور اجر کے طور پر اللہ نے آپ کو عطا فرمائی۔پھر حضور نے انہیں نماز کے بعد تسبیحات سبحان اللہ، الحمد للہ پڑھنے کے لئے سکھائیں۔(20) حجۃ الوداع کے سفر میں بھی حضرت بلال آنحضور علے کے شریک سفر تھے۔صحابہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسامہ اور حضرت بلال کو ہم نے آنحضرت علیہ کے ساتھ حجۃ الوداع میں دیکھا ان میں سے ایک نے آپ کی اونٹنی کی باگ پکڑی ہوئی تھی اور دوسرے نے کپڑے کے ساتھ آپ کو دھوپ سے سایہ کیا ہوا تھا۔حجتہ الوداع کے موقع پر آنحضرت ﷺ نے لوگوں کو خاموش کرانے کی ڈیوٹی بھی حضرت بلال کے سپر دفرمائی تھی۔(21) رسول اللہ ﷺ کی شفقت بلال کی یہ مستعدی حضور ﷺ کو بہت ہی پیاری اور بھلی لگتی تھی۔حضرت مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے آنحضرت ﷺ کی اپنے گھر میں دعوت کی حضور ﷺ ابھی کھانا تناول فرمار ہے تھے۔بُھنا ہوا گوشت چھری سے کاٹ کر مجھے عطا فرمانے لگے کہ اتنے میں بلال کی آواز آ گئی یا رسول اللہ ﷺ نماز کا وقت ہو گیا ہے۔حضور ﷺ کو بلال کی اس مستعدی پر بہت ہی پیار آیا اور فرما یا مَالَهُ تَرِبَ يَدَاهُ اللہ اس کا بھلا کرے اس کو کیا ہو گیا یعنی ابھی تو ہم نے کھانا بھی نہیں کھایا اور یہ نماز کے لئے بلانے لگا ہے۔(22) مگر یہ بھی بلال کے ساتھ محبت کا ایک انداز تھا ورنہ آنحضرت علیہ کی جنت اور آنکھوں کی ٹھنڈک تو نماز ہی تھی۔اور اکثر بلال کو یہی فرمایا کرتے تھے کہ قُمُ يَا بِلالُ وَأَرِحْنَا بِالصَّلوةِ - اے بلال کھڑے ہو۔اقامت کہو اور نماز کے ساتھ ہمیں تسکین بہم پہنچاؤ کہ حضور ﷺ کی تمام پریشانیوں