سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 295 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 295

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 295 حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ آئے گا اور قرض کی ادائیگی کے لئے رقم ہوگی تو میں پھر حاضر ہو جاؤں گا۔بلال کہتے ہیں کہ میں حضور ﷺ سے یہ بات کر کے مدینہ سے بھاگ جانے کی تیاری کر کے سو گیا کہ علی الصبح کہیں نکل جاؤں گا۔اپنا تھیلا تلوار اور جوتے پاس رکھے۔صبح نماز سے پہلے میں نکلنے کو تھا کہ مجھے ایک شخص نے آواز دی کہ بلال تمہیں خدا کے رسول ﷺ یاد کرتے ہیں۔میں حاضر خدمت ہوا تو آنحضرت علیہ نے فرمایا اے بلال وہ چار اونٹ جو باہر سامان سے لدے ہوئے کھڑے ہیں لے لو۔ان میں کپڑے بھی تھے۔کھانے پینے کی چیزیں بھی تھیں۔حضور ﷺ نے فرمایا کہ فدک کے رئیس نے یہ چیزیں میرے لئے تحفہ کے طور پر بھیجی ہیں۔جاؤ اپنے سارے قرضے اور واجبات ادا کر دو۔‘ (14) غزوات میں شرکت حضرت بلال کو آنحضرت ﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں شامل ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔بدر میں بھی آپ شریک ہوئے جنگ میں مشرکین کا سردار امیہ بن خلف بھی شامل تھا جو کبھی بلال کا مالک تھا۔حضرت بلال اس پر حملہ آور ہوئے تو حضرت عبدالرحمن بن عوف پناہ دینے لگے حضرت بلال نے نعرہ لگایا لا نجوتُ إِنْ نَجا اُمیہ اگر آج امتیہ بچ گیا تو پھر بلال کو نجات نہیں ہے اور بلال کے وار سے ظالم امیہ بچ نہ سکا اور کیفر کردار کو پہنچا۔(15) حضرت بلال آنحضرت عیہ کے بہت ہی مستعد خادم تھے۔ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ حنین سے واپسی پر میں نے حضرت بلال کو دیکھا آنحضرت ﷺ نے انہیں آواز دی اور وہ اس طرح چھلانگ لگا کر اپنی جگہ سے اچھلے جیسے پرندہ اڑا کرتا ہے اور کہا لبیک اے میرے آقا میں حاضر ہوں۔حضور نے فرمایا میرے گھوڑے کی زین ڈال دیں۔(16) فتح مکہ میں بلال کا اعزاز آنحضرت حضرت بلال کی بہت دلداری فرمایا کرتے تھے۔فتح مکہ کے موقع پر حضور نے حضرت بلال کو اپنے قافلہ خاص میں شامل فرمایا مکہ میں داخل ہوتے وقت حضرت اسامہ حضور کی سواری کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔حضرت ابو بکر آپ کے دائیں تھے تو حضرت بلال آپ کے بائیں قافلہ کے ہم رکاب چل رہے تھے۔اس موقع پر آنحضرت نے بلال کا ایک اور حسین انتقام اس طرح