سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 294 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 294

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 294 حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ حاضر خدمت ہوئے تو فرمایا کہ تم نے تو وعدہ کیا تھا کہ فجر کی نماز پر جگاؤ گے؟ ذہین بلال نے کیا خوبصورت جواب دیا کہ میرے آقا! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اُسی خدا نے میری روح کو بھی قبض کئے رکھا جس نے آپ کی روح کو۔آنحضرت ﷺ یہ سن کر مسکرا دئیے۔صحابہ کو نماز کی تیاری کا حکم دیا اور نماز فجر با جماعت پڑھائی۔اس کے بعد فر مایا اگر کسی موقع پر نماز بر وقت ادا ئیگی سے رہ جائے تو جب آنکھ کھلے یا یاد آ جائے اسی وقت نماز ادا کر لینی چاہیے۔(12) حضرت بلال آنحضرت ﷺ کے محافظ اور پہریدار بھی تھے۔مختلف مواقع پر وفود کی آمد پر یا عیدوں کے موقع پر آپ نیزہ لے کر آنحضرت ﷺ کے آگے آگے ہوتے تھے۔عید کے میدان میں بلال رسول اللہ علیہ کی جائے نماز کے آگے نیزہ بطورسُترہ گاڑا کرتے تھے۔(13) رسول اللہ ﷺ کے خزانچی بلال آنحضرت ﷺ کے خزانچی اور اکا ؤنٹنٹ بھی تھے۔کئی دفعہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صدقہ کے اموال اکٹھے کئے۔جو مال آتا اپنے پاس جمع کرتے ان کا حساب کتاب رکھتے۔یہ تمام ذمہ داری مکمل بھروسہ کے ساتھ آنحضرت ﷺ نے حضرت بلال کے سپرد کر رکھی تھی۔اس سلسلہ میں حضرت بلال ایک بہت دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک موقع پر ایک مشرک نے مجھے کہا کہ آنحضرت کے لئے جو چیز بھی تمہیں ادھار پر لینا ہو یا کبھی کسی غریب اور مسکین کو کوئی کپڑایا چادر یا کھانے پینے کی کوئی چیز لے کر دینا ہو وہ میرے سے لے لیا کرو میرے پاس اتنی فراخی ہے کہ میں تمہیں قرض پر سب چیزیں دے سکتا ہوں۔حضرت بلال کہتے ہیں کہ جب اس کا ڈھیر سارا قرض جمع ہو گیا۔ابھی چند دن قرض کی ادائیگی میں باقی تھے۔ہمارے پاس قرض ادا کرنے کے لئے کچھ نہ تھا۔اس مشرک نے مجھے بلا کر بری طرح ڈانٹا اور بہت سختی کرتے ہوئے کہا کہ ان چار دنوں میں لازماً تمہیں یہ قرض ادا کرنا ہوگا۔بلال کہتے ہیں کہ میں رات کو سخت پریشانی کی حالت میں آنحضرت کے پاس حاضر ہوا اور پوچھا کہ آپ کے پاس قرض ادا کر نے کے لئے کچھ ہے؟ پھر اپنا حال بھی سنایا کہ میرے پاس بھی کچھ نہیں ہے اور یہ کہ یہودی تو مجھے بہت ذلیل ورسوا کرے گا اس لئے اگر آپ اجازت دیں تو میں نواحی مسلمان قبائل کے پاس بھاگ کر چلا جاتا ہوں جب آپ کے پاس مال