سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 270 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 270

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 270 حضرت صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ آپ نے مدینہ آنے پر فرمائی تھی میں نے پلے باندھ لی اور اس پر مسلسل عمل کرتا ہوں اور سوائے جائز حق کے مال خرچ نہیں کرتا۔(8) جیسا کہ بعد کے واقعات سے ظاہر ہے اس کے بعد سے حضرت عمرؓ کا حضرت صہیب کے ساتھ تعلق مزید گہرا ہوا۔چنانچہ حضرت عمر نے وصیت فرمائی تھی کہ ان کا جنازہ حضرت صہیب پڑھائیں گے اور جب تک نیا خلیفہ منتخب نہیں ہو جا تا نمازوں کی امامت بھی وہی کروائیں گے۔روایات حدیث حضرت صہیب روایت حدیث میں احتیاط سے کام لیتے تھے ایک دفعہ فرمایا کہ خدا کی قسم ! میں تم کو حدیث سناتے ہوئے جب کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو وہی باتیں سناتا ہوں جو آپ نے فرما ئیں اور جب آپ کی جنگوں کے حالات سناؤں جن میں شامل ہوا تو کچھ اپنے تاثرات بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔حضرت صہیب کی چند ایک روایات ذخیرہ احادیث میں ملتی ہیں جو حضرت عمرؓ سے مروی ہیں۔جن سے آپ کی محبت الہی کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔اہل جنت کو خدا تعالیٰ کا دیدار کروانے سے متعلق ہے۔حضرت صہیب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ - (يونس: 27) کہ وہ لوگ جو احسان کرتے ہیں ان کو نیکی کے بدلہ کے علاوہ کچھ زیادہ بھی ملے گا۔آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر اس زیادہ کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا جب جنتی جنت میں داخل ہو جائیں گے اور اہل نار دوزخ میں تو ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ اے جنت والو! اللہ تعالیٰ تم سے اپنا وعدہ پورا کرنے والا ہے۔اہل جنت حیران ہونگے کہ وہ کونسا وعدہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے اعمال کے بدلہ میں ہمیں جنت تو دے دی۔ہمارے چہرے بھی روشن کر دئے۔اور آگ سے بچالیا اس سے بڑھ کر اور کونسا وعدہ ہو گا ؟ ابھی وہ یہ اظہار کر ہی رہے ہونگے کہ اللہ تعالیٰ اپنا حجاب ہٹائے گا اور جب وہ خدا تعالیٰ کا دیدار کریں گے تو لطف و محبت کی ایسی لہریں ان کے سینہ سے اٹھیں