سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 271
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 271 حضرت صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ گی کہ جن سے بڑھ کر کوئی چیز ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے والی نہیں ہوگی۔(9) راضی برضا ایک اور روایت جو حضرت صہیب بیان کرتے تھے اس کا تعلق بھی راضی برضا ر ہنے سے ہے۔ان کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک موقع پر مسکرا رہے تھے جس کے بعد صحابہ سے فرمایا کہ کیا تم مجھ سے پوچھو گے نہیں کہ میں کیوں مسکرایا ہوں؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ ہی بیان فرمائیں۔فرمایا کہ میں مومن کے حال پر ہنستا ہوں کہ اس کا حال بھی عجب ہے اس کے سب کام خیر ہی خیر ہوتے ہیں اور یہ بات مومن کے علاوہ اور کسی کو نصیب نہیں ہوتی کیونکہ مومن رضا بالقضاء کے مقام پر ہوتا ہے۔جب اسے خوشی پہنچتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے اور اس کا اجر پاتا ہے اور جب تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اس کی جزا عطا کرتا ہے۔گویا حالت عسر ہو یا حالت سیسر ،مومن کیلئے ہر حال میں خیر ہی خیر ہے۔(10) خدا اور قرآن سے محبت ایک اور روایت سے قرآن کے ساتھ حضرت صہیب کی محبت کا اندازہ ہوتا ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شخص جو ان باتوں سے جن سے قرآن نے منع کیا ہے نہیں رکتا وہ حقیقی معنوں میں قرآن پر ایمان نہیں لاتا۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ خود کس حد تک قرآن کے احکامات کے پابند تھے۔حضرت صہیب ایک دعا رسول کریم سے بیان کرتے تھے جو اللہ تعالیٰ پر تو کل سے تعلق رکھتی ہے وہ دعا یہ ہے۔اَللَّهُمَّ بِكَ اَحُولُ وَبِكَ اَصُولُ وَ بِكَ اقَاتِلُ - حضرت صہیب بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم دشمن سے مقابلہ کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے۔اے اللہ ! تیری مدد سے میں تدبیر کرتا ہوں اور تیری تائید سے میں حملہ کا جواب دیتا ہوں اور تیرے نام سے ہی لڑتا ہوں۔(11) حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد ان کی وصیت کے مطابق حضرت صہیب نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور انتخاب ہونے تک تین دن حضرت صہیب مسجد نبوی میں نمازیں پڑھاتے رہے۔(12)