سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 269
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 269 حضرت صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ کیا ؟ خدا کی قسم ! اگر تم اس کو ایذاء پہنچاتے تو اللہ اور اسکے رسول گوایذا پہنچانے والے ہوتے۔(7) حضرت عمرؓ سے محبت اور دوستی حضرت صہیب کو رومیوں سے نسبت دینے کی وجہ یہ ہے ان کے بچپن کا زمانہ رومیوں میں گزرا۔رومی زبان ان کو آتی تھی۔اور عربی بولنے میں کچھ لکنت بھی پائی جاتی تھی۔حضرت عمر کے ساتھ حضرت صہیب کی بے تکلفی اور خاص محبت کا ذکر آتا ہے۔ایک دفعہ حضرت عمر مدینہ کے نواح میں ان کی رہائش گاہ پر حضرت زید بن اسلم کے ساتھ گئے تو حضرت صہیب آوازیں دینے لگے یا ناس۔یا ناس۔تو حضرت عمرؓ کہنے لگے صہیب کو کیا ہوا کہ ہمیں دیکھتے ہی لوگوں کو پکارنے لگے ہیں۔پتہ چلا کہ دراصل صہیب اپنے غلام یہنس کو بلا رہے تھے اور لکنت کی وجہ سے یہنس کو یا ناس کہہ رہے تھے۔(ناس کے معنی ہیں لوگ ) حضرت عمرؓ نے اسی بے تکلفی میں ایک دفعہ صہیب سے فرمایا کہ تمہارے ساتھ ایک دوستی اور محبت کا تعلق ہے۔بہت قریب سے بھی دیکھنے کا موقع ملا اور تمہارے اندر کوئی عیب نہیں پایا۔مگر دو تین باتیں عجیب سی لگتی ہیں۔اگر یہ بھی نہ ہوتیں تو میں تم پر کسی کو مقدم نہ کرتا اور تم میرے انتہائی گرم جوش دوست ہوتے۔پہلی بات یہ تمہاری اولاد کوئی نہیں مگر کنیت ابویحیی رکھتے ہو جو ایک نبی کا نام ہے۔حضرت صہیب نے کہا دراصل نبی کریم ﷺ نے میری یہ کنیت خود تجویز فرمائی تھی۔اب میں مرتے دم تک اسے چھوڑ نہیں سکتا۔دوسری بات حضرت عمر نے یہ فرمائی کہ تمہاری زبان عجمی ہے رومی زبان بولتے بھی ہوا اور عربی میں کچھ لکنت بھی ہے پھر بھی تم اپنے آپ کو عرب سے نسبت دیتے ہو۔حضرت صہیب نے کہا کہ دراصل میں رومیوں میں سے نہیں البتہ بچپن میں وہاں رہنے کا موقع ضرور ملا دراصل میں عربی نژاد ہوں۔چھوٹی عمر میں رومی مجھے قید کر کے لے گئے ورنہ عرب خاندان اور قبیلے سے ہی میرا تعلق ہے۔تیسری بات حضرت عمرؓ نے یہ فرمائی کہ تم اس کثرت سے لوگوں کو کھانا وغیرہ کھلا دیتے ہو کہ مجھے ڈر لگتا ہے اس میں اسراف نہ ہو۔حضرت صہیب نے کہا کہ یہ جو میں لوگوں کو کھلاتا ہوں دراصل آنحضرت ﷺ کی ایک نصیحت کی وجہ سے ہے۔آپ نے فرمایا ” تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جولوگوں کو کھانا کھلاتے اور سلام کو رواج دیتے ہیں۔حضور ﷺ کی یہ نصیحت جو