سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 268 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 268

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 268 حضرت صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ رسول کے بارے میں جتنی باتیں مجھ سے پوچھنی ہیں پوچھ سکتے ہو۔کیونکہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں مجھے شامل ہونے کا موقع ملا ہے۔دوسری روایت کے مطابق ان کا بیان ہے کہ بیعت کے بعد کی زندگی کے تمام اہم اور مشہور واقعات میں مجھے حاضر خدمت رہنے کی توفیق ملی ہے۔آنحضور ﷺ نے جب بھی کوئی بیعت لی مجھے اس میں موجود ہونے کی سعادت عطا ہوئی۔کوئی مهم حضور اکرم ﷺ نے نہیں بھجوائی مگر میں اس موقع پر حاضر تھا کوئی غزوہ آپ نے نہیں کیا مگر میں اس موقع پر موجود تھا بلکہ میں آپ کے دائیں اور کبھی بائیں ہوکر لڑتا تھا اور کبھی آگے سے اندیشہ ہوتا تو سامنے ہو کر لڑتا اور آنحضرت ﷺ کو کبھی اس حال میں نہیں چھوڑا کہ آپ میرے اور دشمن کے درمیان آگئے ہوں۔یہاں تک کہ آنحضور ﷺ کی وفات ہوگئی، یعنی ہمیشہ رسول خدا ﷺ کے آگے سینہ سپر رہے اور کبھی دشمن کو آنحضرت کے سامنے نہیں ہونے دیا کہ حضور کا دشمن سے آمنا سامنا ہو۔(6) اتمہ حضرت صہیب کی ان خوبیوں اور ان کے اعلیٰ اخلاق فاضلہ وصفات حسنہ کی وجہ سے ان کی تعریف فرماتے تھے۔ایک موقع پر حضرت صہیب کا ذکر کرتے ہوئے رسول کریم علی نے فرمایا کہ قومی لحاظ سے سبقت لینے والے چار ہیں۔عربوں میں سبقت لینے والا میں ہوں (اور اس میں کیا شک ہے کہ ہمارے نبی اَوَّلُ المُؤمِنِینَ کے مقام پر فائز تھے کہ اپنے خدا کی طرف سے نازل ہونے والے کلام پر سب سے پہلے آپ ہی ایمان لائے تھے ) پھر فرمایا کہ صہیب رومیوں میں سے سبقت لے جانے والے ہیں اور سلمان فارسی ایرانیوں میں سے پہلا پھل ہے جو مسلمانوں کو ملا اور اہل حبشہ میں سبقت لینے والے بلال ہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے چاہیے کہ وہ صہیب سے اسطرح محبت کرے جیسے ماں بیٹے سے محبت کرتی ہے۔یہ ایک نو وارد غیر عرب کیلئے رسول اللہ ﷺ کا حسن سلوک تھا۔ایک دفعہ حضرت ابو بکر ایک مشرک قیدی کو لے کر جارہے تھے حضرت صہیب نے کہہ دیا کہ اس کی گردن میں تلوار کی جگہ تھی یعنی لائق گردن زدنی تھا۔اس پر حضرت ابو بکر ناراض ہوئے رسول کریم نے سبب پوچھا تو انہوں نے صہیب کی بات سنائی۔آپ نے فرمایا ” تم نے صہیب کو ناراض تو نہیں