سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 267
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 267 حضرت صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ تھے۔ادھر سفر کی صعوبتوں اور تکالیف کے بعد صہیب کی ایک آنکھ دیکھنے کو آئی تھی۔کفار نے ان کا سارا مال تو وہیں پر دھر لیا تھا۔صہیب کہتے ہیں گندم کا تھوڑ اسا آٹا جوز ادراہ تھی ، ابواء مقام پر گوندھ کر اس کی روٹیاں بنالی تھیں۔بھوک اور فاقے کی اس حالت سے گزر کر جب قبا پہنچے تو مدینہ کی تر و تازہ کھجور میں مجلس رسول میں ما حضر تھیں۔بے تکلفی سے اس دعوت میں شریک ہوئے اور بے دھڑک وہ کھجوریں کھانے لگے۔حضرت عمرہ کو صہیب سے خاص لگاؤ تھا۔انہوں نے صہیب کو چھیڑتے ہوئے آنحضور کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ دیکھتے نہیں کہ صہیب کی ایک آنکھ دکھنے کو آئی ہے پھر بھی یہ بے دھڑک کھجوریں کھاتے چلے جارہے ہیں۔گویا ان کی صحت کیلئے یہ مضر ہے۔آنحضرت نے حضرت صہیب کو یہ توجہ دلائی کہ تمہاری آنکھ دکھنے کو آئی ہے اور پھر بھی بے دھڑک کھجور میں کھاتے جارہے ہو۔حضرت صہیب نے بھی کیا پر مزاح جواب دیا کہ یا رسول اللہ میں اپنی دوسری تندرست آنکھ کی طرف سے کھا رہا ہوں۔اس حاضر جوابی پر نبی کریم بے اختیار مسکرائے۔(5) یہ ظرافت اپنی جگہ مگر اس میں بھی شک نہیں کہ صہیب کو ایک فاقے کے بعد وہ کھجوریں میسر آئیں جو آنحضرت ﷺ کا تبرک بھی تھا اس لئے صہیب سے رہا نہ گیا۔اس کے بعد آنحضرت ﷺ اور حضرت ابو بکر سے محبت بھرے شکوے کرنے لگے کہ مجھے کیوں اپنے ساتھ سفر ہجرت میں شریک کر کے خدمت کا موقع نہ دیا۔پیچھے رہ کر مجھ پر یہ نوبت آئی کہ اپنا سارا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کر کے بمشکل اپنی جان اور خاندان آزاد کروا کے لایا ہوں۔حضور اکرم ﷺ نے اسی موقع پر فر مایا کہ یہ تو بہت ہی اعلیٰ اور نفع بخش تجارت ہے جو صہیب نے کی۔“ غزوات میں شرکت مدینہ میں حضرت سعد بن خیثمہ کے پاس قیام رہا اور آنحضرت ﷺ نے حضرت حارث بن الصمہ کے ساتھ آپ کا بھائی چارہ قائم فرمایا۔اس کے بعد حضرت صہیب تمام غزوات میں حضوراکرم ﷺ کے شانہ بشانہ شریک ہوئے۔بدر، احد، فتح خیبر اور فتح مکہ کے موقع پر بڑی بہادری کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا۔حضرت صہیب طبعاً بہت زیادہ روایات بیان نہیں کرتے تھے تا ہم کہا کرتے تھے کہ غزوات