سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 266
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 266 حضرت صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ تھے اور تجارت کے ذریعہ کافی مال کمایا تھا جب ہجرت کر کے مدینہ جانے لگے تو اہل مکہ نے ان سے کہا کہ تم تو ایک مفلس غلام کے طور پر ہمارے شہر مکہ میں آئے تھے۔ہم تمہیں یہاں سے کمایا ہوا مال لے کر ہر گز جانے نہ دیں گے۔صہیب نے کہا اگر مال یہیں چھوڑ دوں تو کیا پھر جانے دو گے؟ اور پھر انہوں نے اپنا نصف مال اہل مکہ کے حوالے کر دیا اور ہجرت مدینہ کا قصد کیا۔(4) صہیب اپنے بیوی بچوں کو لے کر مدینے کی جانب روانہ ہوئے تو بعض قریش نے آپ کا پیچھا کیا وہ سواری سے اتر آئے۔صہیب بہت بہادر اور زبردست تیرانداز تھے۔انہوں نے اپنے ترکش کے تمام تیر نکال کر نیچے بکھیر دیئے اور کہا اے قریش ! تم جانتے ہو کہ میں تم سب سے بہترین تیرانداز ہوں میرے ترکش کے آخری تیر کے ختم ہونے تک تم مجھ تک نہیں پہنچ سکتے۔اسکے بعد میری تلوار سے تم کوٹڑ نا ہوگا۔دوسری صورت یہ ہے کہ مجھے امن سے جانے دو اور اس کے عوض میں اپنے باقی مال کے بارے میں بھی تمہیں بتا دیتا ہوں وہ تم مکہ جا کر نکال لو۔اس طرح کمال حکمت عملی سے انہوں نے کفار کے ساتھ معاملہ کیا اور اپنا سارا مال دے کر اور اپنا ایمان اور خاندان بچا کر مدینہ آگئے۔صحابہ بیان کیا کرتے تھے کہ یہ آیت اسی موقع کی مناسبت سے اتری وَمِنَ النَّاسِ مَن يُشْرِئُ نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ (البقرة:208) کہ لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں جو اللہ تعالی کی رضا کی خاطر اپنا تمام مال قربان کر کے اپنے نفس کو بیچ دیتے ہیں۔الغرض حضرت صہیب نے تمام مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیا۔حضرت صہیب جب آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور نے ان کے سفر کا حال سنا کہ کس طرح سارا مال دے کر جان اور ایمان بچالیا تو فرمایا کہ یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔رَبِحَ صُهَيْبُ رَبِحَ صهيب صہیب نے وہ سودا کیا ہے جو بہت نفع والا ہے کیونکہ انہوں نے دین کود نیا پر مقدم کیا تھا۔صلى الله صحبت رسول علی اور دلداری مکہ سے آنے والے آخری مہاجرین میں حضرت علی اور حضرت صہیب بیان کئے جاتے ہیں۔ہجرت کر کے جب وہ قبا میں آئے تو پتہ چلا کہ آنحضرت علی حضرت کلثوم بن ہرم کے پاس قیام فرما ہیں۔وہاں ایسے وقت پہنچے تو حضرت ابو بکر اور حضرت عمر بھی موجود تھے۔اور کھجور میں تناول فرمار ہے