سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 246
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم علم اسلام کی حفاظت 246 حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ابن سعد نے مصعب کی شہادت کی مزید تفصیل اس طرح دی ہے کہ عبد اللہ بن قمیہ نے جو گھوڑے پر سوار تھا حملہ آور ہو کر آپ کے بازو پر (جس سے آپ نے جھنڈا تھام رکھا تھا) ایساوار کیا کہ اسے کاٹ کر رکھ دیا۔مصعب نے بازو کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جھنڈا بائیں ہاتھ سے تھام لیا۔ابن قمیہ نے بائیں ہاتھ پر وار کر کے اسے بھی کاٹ ڈالا تو اس شیر خدا نے دونوں ٹنڈے بازوؤں سے اسلامی پرچم کو اپنے سینے سے لگالیا۔اور اسے سرنگوں نہیں ہونے دیا اور بآواز بلند اس آیت کی تلاوت کرنے لگے وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ طَافَائِنُ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمُ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنقَلِبُ عَلَى عَقَبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ط ( آل عمران 145) ( ترجمہ ) محمد ایک رسول ہیں اور آپ سے پہلے سب رسول فوت ہو گئے ہیں۔اگر آپ فوت ہو جائیں یا قتل ہو جائیں تو کیا تم ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے اور جو تم میں سے اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے وہ اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔آنحضرت ﷺ کی شہادت کی خبر مشہور ہو جانے کے بعد جب مسلمان سراسیمگی کے عالم میں تھے اور مارے غم کے انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔بعض گھبرا کر اور بد دل ہو کر پیچھے بھی ہے۔اس وقت مصعب کا یہ آیت پڑھتے ہوئے جان قربان کر دینا آپ کی کمال بہادری اور شجاعت ظاہر کرتا ہے۔دوسرے لفظوں میں آپ اپنے آخری سانسوں میں بھی انس بن نضر مجیسے صحابہ کی طرح مسلمانوں کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ اگر نبی کریم شہید بھی ہو گئے ہیں تو محض گھبرانے یا پیچھے ہٹنے سے کیا حاصل؟ آگے بڑھو اور اسی راہ میں اپنی جانیں نچھاور کر دو جس راہ میں ہمارا آقا اپنی جان قربان کر گیا۔خود مصعب نے اپنی جان کی قربانی پیش کر کے اس پیغام کو عملاً بھی سچا کر دکھایا۔مصعب کے دونوں ہاتھ قلم دیکھ کر اور انہیں مقابلہ سے عاجز پا کر عبداللہ بن قمیہ گھوڑے سے اتر آیا۔تیسری مرتبہ اپنے نیزہ کے ساتھ آپ پر پوری قوت سے حملہ آور ہوا۔نیزہ آپ کے بدن کے