سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 245 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 245

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 245 حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ آپ اسلام قبول کر لیں میری یہ آرزو پوری کر دیں اور خدا کے ایک ہونے اور محمد رسول اللہ علیہ اس کا رسول ہونے کی گواہی دے دیں۔“ مصعب کی ماں نے کہا ” ستاروں کی قسم میں تمہارے دین میں ہرگز داخل نہ ہوگی۔کیا آباؤ اجداد کا دین چھوڑ دوں؟ اور سب لوگ مجھے پاگل کہیں؟ پس جاؤ تمہیں تمہارے حال پر چھوڑا اور میں اپنے دین پر قائم ہوں۔(14) آہ ! مصعب کے لئے کتنی کڑی تھی یہ آزمائش مگر انہوں نے بھی خوب استقامت دکھائی آخر چند ماہ حضور علیہ کی صحبت میں گزارنے کے بعد حضرت مصعب 12 ربیع الاول کو مدینہ واپس لوٹے۔مدینہ پہنچ کر آپ پھر اپنی دینی اور تبلیغی سرگرمیوں میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔آپ ہی ہیں جنہوں نے مدینہ کو دارالہجرت کے طور پر رسول خدا کے لئے تیار کیا۔یہاں تک کہ اگلے سال نبی کریم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے۔تو مصعب کی دلی تمنائیں پوری ہوئیں۔بہادری اور شجاعت دشمنان اسلام نے مدینہ میں بھی مسلمانوں کو چین کا سانس نہ لینے دیا اور جلد ہی بدر کا معرکہ پیش آیا۔اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیرہ کو یہ شاندار اور اعلی اعزاز بخشا کہ مہاجرین کا بڑا جھنڈا انہیں کو عطا فرمایا۔(15) غزوہ احد میں بھی نہ صرف صاحب لواء ( علمبر دار اسلام ) ہو نیکی سعادت ان کے حصے میں آئی بلکہ نہایت دلیری اور بہادری سے جان کی بازی لگا کر انہوں نے اسلامی جھنڈے اور نبی کریم ﷺ کی حفاظت کی شاندار مثال قائم کر دکھائی جو تاریخ اسلام میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھی جاتی رہے گی۔جب احد میں کفار مکہ کے دوبارہ غیر متوقع حملہ کے دوران مسلمانوں کو پسپا ہونا پڑا تو اسلامی علمبردار مصعب بن عمیر دشمن کے تابڑ توڑ حملوں کے مقابل پر میدان جنگ میں اسلامی علم تھامے ہوئے ڈٹ گئے۔ابن اسحاق کے بیان کے مطابق وہ رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کرتے ہوئے آپ کے آگے پیچھے لڑ رہے تھے کہ عبداللہ بن قمیہ کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ابن قمیہ کے حملہ سے آنحضور یہ بھی گر گئے تو وہ سمجھا کہ آنحضرت علی کو شہید کر دیا گیا ہے اور اس کا اعلان کر کے اس نے یہ خبر میدان احد میں مشہور کر دی۔(16)