سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 247
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 247 حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ پار ہو کر ٹوٹ گیا ساتھ ہی مصعب بھی گر پڑے اسلامی جھنڈا گر نے کو تھا کہ لپک کر آپ کے بھائی ابوالروم بن عمیر اور سویط بن سعد نے پکڑ لیا اور یوں حضرت مصعب نے میدان احد میں آخری دم تک اسلامی جھنڈا کی حفاظت کرتے ہوئے جان دے دی۔(17) ابن اسحاق میں یہ روایت بھی ہے کہ حضرت مصعب بن عمیر کی شہادت پر نبی کریم ﷺ نے جھنڈا حضرت علی کو دیا۔بوقت شہادت حضرت مصعب کی عمر چالیس سال تھی۔(18) وفاء عهد اسلامی جھنڈے کا حق ادا کر نیوالا اور اپنے مسلمان ساتھیوں کو استقامت اور ثبات قدم کی آخری وصیت کر نیوالا یہ مجاہد اپنی شہادت کے وقت بھی پشت کے بل نہیں بلکہ چہرہ کے بل گرا۔اور رسول اللہ جب ان کی نعش کے پاس پہنچے تو وہ چہرہ کے بل پڑے تھے۔گویا دم واپسیں بھی اپنے مولیٰ کی رضا پر راضی اور سجدہ ریز حضور نے ان کی نعش کے پاس کھڑے ہو کر یہ آیت تلاوت فرمائی:۔مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالُ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا (الاحزاب 24 ان مومنوں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اپنی نیت کو پورا کر دیا ( یعنی لڑتے لڑتے مارے گئے ) اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو ا بھی انتظار کر رہے ہیں اور اپنے ارادہ میں کوئی تزلزل انہوں نے نہیں آنے دیا۔اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے اپنے اس عاشق صادق کو مخاطب کر کے فرمایا اے مصعب ! خدا کا رسول تم پر گواہ ہے ( کہ واقعی تم اس آیت کے مصداق اور ان مردان وفا میں سے ہو جنہوں نے اپنے وعدے پورے کر دکھائے ) اور روز قیامت تم دوسروں پر گواہ بنائے جاؤ گے“۔پھر آپ نے اپنے علمبر دار حضرت مصعب کو اس آخری ملاقات میں ایک اور اعزاز بھی بخشا۔صحا ب پکو مخاطب کر کے فرمایا کہ:۔”اے میرے صحابہ ! مصعب کی نعش کے پاس آکر اس کی زیارت کر لو اور اس پر سلام بھیجو۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روز قیامت تک جو بھی ان پر سلام کرے گا