سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 244
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 244 حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ پر آپ مدینہ سے ۷۵ انصار کا وفد لے کر مکہ روانہ ہوئے۔حضرت اسعد بن زرارہ بھی ساتھ تھے۔اس وفد کی رسول اللہ اللہ سے ملاقات کا انتظام بھی عقبہ مقام پر کیا گیا۔جہاں اس وفد نے آپ کی بیعت کی جو بیعت عقبہ ثانیہ کے نام سے مشہور ہے۔محبت رسول علی اور استقامت اس سفر میں حضرت مصعب کی محبت رسول کا ایک عجب نمونہ دیکھنے میں آیا۔آپ مکہ پہنچتے ہی اپنی والدہ کے گھر ( جو مخالفت چھوڑ چکی تھیں) جانے کی بجائے سیدھے نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچے۔حضور ﷺ کی خدمت میں وہاں کے حالات عرض کئے اور مدینہ میں سرعت کے ساتھ اسلام پھیلنے کی تفصیلی مساعی کی رپورٹ دی۔حضور ان کی خوشکن مساعی کی تفاصیل سن کر بہت خوش ہوئے۔ادھر مصعب کی والدہ کو پتہ چلا کہ مصعب مکہ آئے ہیں اور پہلے انہیں آکر ملنے کے بجائے رسول اللہ ﷺ کے پاس چلے گئے ہیں تو انہوں نے بیٹے کو پیغام بھیجا کہ او بے وفا ! تو میرے شہر میں اکر پہلے مجھے نہیں ملا۔عاشق رسول ﷺ حضرت مصعب کا جواب بھی کیسا خوبصورت تھا کہ اے میری ماں ! میں مکہ میں نبی کریم ﷺ سے پہلے کسی کو ملنا گوارا نہیں کر سکتا۔(13) حضور ﷺ سے ملاقات کے بعد والدہ کے پاس حاضر ہوئے۔انہوں نے پھر مصعب کو صابی مذہب کا طعنہ دے کر راہ راست سے ہٹانے کی کوشش کی۔حضرت مصعب نے سمجھایا کہ میں خدا اور رسول کے دین پر ہوں جسے خدا نے اپنے اور اپنے رسول کیلئے پسند کیا ہے۔والدہ نے محبت و پیار کے واسطے دیکر کہا کہ تمھیں کیا معلوم کہ میں نے تمہاری جدائی میں کتنے دکھ اٹھائے۔جب تم حبشہ گئے تو ایک دفعہ اس وقت میں نے تمہاری خاطر بین کئے اور دوسری مرتبہ تمہارے بیثرب جانے پر ماتم کیا مگر تم ذرا احسان شناسی سے کام نہیں لیتے۔مصعب نے کہا کہ ماں ! میں اپنے دین کو تو کسی حالت میں نہیں چھوڑ سکتا۔جتنا مرضی مجھے آزما لو۔والدہ نے قید و بند کی دھمکی دی تو اب کے مصعب نے بھی ذراسختی سے جواب دیا کہ وہ کسی دھمکی میں نہیں آئیں گے، مجبور ہو کر والدہ رونے لگیں اور کہا جاؤ بچے تمہاری مرضی ! مصعب کا دل بھی پسیج گیا انہوں نے بہت پیار سے سمجھایا کہ اے میری ماں! میں آپ کا سچا ہمدرد ہوں اور مجھے آپ سے بے حد محبت ہے۔میری دلی خواہش اور تمنا ہے کہ