سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 231
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 231 حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جواب دیا نجاشی نے کہا کہ اچھا مجھے اس میں سے کچھ کلام پڑھ کر سناؤ “ حضرت جعفر کی ذہانت و فطانت پر رشک آتا ہے کہ انہوں نے فوری طور پر عین موقع کے محل اور مناسبت سے سورۃ مریم کی آیات کی تلاوت ایسی دلآویزی اور خوش الحانی سے کی کہ خدا ترس نجاشی بے اختیار رونے لگا۔وہ رویا اور اتنا رویا کہ اس کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی۔ساری محفل پر قرآن شریف کے اس پر تاثیر اور برحق کلام کا ایسا اثر ہوا کہ درباری پادری بھی رونے لگے۔ان کے صحیفے ان کے آنسوؤں سے تر ہو گئے۔نجاشی یہ کلام الہی سن کر بے اختیار یہ کہ اٹھا ” خدا کی قسم ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کلام اور موسیٰ کا کلام ایک ہی منبع اور سر چشمہ سے پھوٹے ہیں۔پھر اس منصف مزاج بادشاہ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا اے مکہ کے سفیر و! تم واپس لوٹ جاؤ۔خدا کی قسم میں ان لوگوں کو ہر گز تمہارے حوالے نہیں کر سکتا۔مکہ کے ان سفراء نے مزید مشورے کئے اور کہا کہ وہ بادشاہ کے سامنے مسلمانوں کے خراب عقائد اور عیوب بیان کر کے اس نیک اثر کو زائل کر کے ہی دم لیں گے اور اسے بتائیں گے کہ حضرت عیسی کو یہ عیسائیوں کے اعتقاد کے برخلاف محض ایک انسان مانتے اور اس کی تنقیص اور تو ہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔اگلے روز انہوں نے بادشاہ کے سامنے یہ موقف رکھا تو بادشاہ نے پھر مسلمانوں کو بلوا بھیجا۔بلاشبہ ان کے لئے یہ سخت پریشانی کی بات تھی۔حضرت ام سلمہ کا بیان ہے کہ اس نئی مصیبت سے ہم بہت فکر مند ہوئے۔ایسی مصیبت سے اس سے پہلے کبھی واسطہ نہ پڑا تھا۔مسلمانوں نے باہم اکٹھے ہوکر مشورے کئے اور کہا کہ اگر بادشاہ نے حضرت عیسی کے مقام کے بارہ میں دریافت کیا تو ہم وہی بیان کریں گے جیسا کہ قرآن شریف میں مذکور ہے۔چنانچہ جب بادشاہ نے ان سے سوال کیا کہ عیسی بن مریم کے بارہ میں تمہارا کیا عقیدہ ہے؟ تو حضرت جعفر نے کہا کہ اس بارہ میں ہمارے نبی پر یہ کلام اترا ہے کہ عیسی اللہ کا بندہ اور اس کا رسول روح اللہ اور اس کا کلمہ ہے جو اس نے کنواری مریم کو عطا فر مایا۔“ نجاشی نے زمین پر ہاتھ مارا اور ایک تنکا اٹھا کر کہنے لگا کہ ”حضرت عیسی کا مقام اس تنکے کے برابر بھی اس سے زیادہ نہیں جو تم نے بیان کیا ہے۔اس پر اس کے سردار اور جرنیل بڑبڑائے۔مگر