سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 232
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 232 حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نجاشی نے کمال جلالت شان کے ساتھ یہ عادلانہ فیصلہ صادر فرمایا کہ ' جاؤ اے مسلمانو ! تمہیں میری سرزمین میں مکمل امان ہے اگر تمہیں کوئی برا بھلا کہے گا تو اسے سزادی جائے گی۔مجھے یہ ہرگز پسند نہیں کہ مال و دولت کے عوض میں تم میں سے کسی کو تکلیف پہنچاؤں“ پھر شاہ حبشہ نے حکم دیا " عرب سفراء کے تحائف واپس لوٹا دیئے جائیں۔ان کی ہمیں کوئی حاجت نہیں۔خدا کی قسم !جب اللہ نے میرا ملک مجھے عطا فرمایا تو اس نے مجھ سے کوئی رشوت نہیں لی تھی جو میں عدل وانصاف کے قیام کے لئے رشوت لوں۔“ الغرض یوں حضرت جعفر نے ایک زمانہ دیگر مسلمانوں کے ساتھ اپنے ملک و وطن اور اپنے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی عے سے دور حبشہ کی سرزمین میں گزارا۔رض ہجرت مدینہ جب حالات سازگار ہوئے تو حضرت جعفر گوجبشہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔فتح خیبر کے موقع پر مہاجرین حبشہ کا قافلہ حضرت جعفر کے ساتھ واپس آیا۔اس وقت حضور تخیبر میں تھے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت جعفر کی آمد پر آپ نے خود آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا۔انہیں گلے لگایا، وفور محبت سے ان کی پیشانی چوم لی اور فرمایا کہ آج میں اتنا خوش ہوں کہ نہیں کہہ سکتا کہ فتح خیبر کی خوشی زیادہ ہے یا جعفر کی ملاقات کی خوشی بڑھ کر ہے۔(4) مدینہ آنے پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل انصاری سے حضرت جعفر کی مواخات قائم فرمائی۔جہاندیدہ اور گرم و سرد چشیدہ حضرت جعفر رسول اللہ ﷺ کے مشیروں اور وزیروں میں شامل ہو گئے۔حضرت علی کی روایت ہے کہ رسول کریم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہر نبی کو کچھ معز ز ساتھی عطا فرماتا ہے مجھے چودہ ایسے ساتھی عطا ہوئے ان میں آپ نے حضرت جعفر کا نام بھی لیا کہ وہ بھی میرے معزز وزراء میں شامل ہیں۔(5) غزوہ موتہ میں شرکت الہی تقدیر میں حضرت جعفہ کیلئے اس سے بھی بڑا مقام یعنی شہادت کا بلند مرتبہ مقدر تھا۔انہیں