سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 230 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 230

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 230 حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ خوبصورت تقریر کی اور کہا ” اے بادشاہ! ہم ایک جاہل قوم تھے۔بتوں کی پرستش کرتے اور مردار کھاتے تھے۔بدکاری اور رشتہ داروں سے بدسلوکی ہمارا معمول تھا۔ہم میں سے طاقتور کمزور کو دبا لیتا تھا۔اس حال میں اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے ایک رسول ہماری طرف مبعوث فرمایا جس کی خاندانی شرافت اور صدق و امانت اور پاکدامنی سے ہم خوب واقف تھے۔اس نے ہمیں خدا کی توحید اور عبادت کی طرف بلایا اور یہ تعلیم دی کہ اس کے ساتھ ہم کسی اور کوشریک نہ ٹھہرائیں۔نہ ہی پتھروں اور بتوں کی پرستش کریں اس نے ہمیں صدق و امانت ، صلہ رحمی ، پڑوسیوں سے حسن سلوک اور کشت وخون سے بچنے کی تعلیم دی بے حیائیوں ، جھوٹ، یتیم کا مال کھانے اور پاکدامنوں پر الزام لگانے سے منع کیا۔ہمیں حکم دیا کہ ہم خدائے وحدہ لا شریک کی عبادت کریں۔ہمیں نماز روزہ اور زکوۃ کی تعلیم دی۔‘“ حضرت جعفر نے نجاشی کے سامنے اسلامی تعلیم کا خلاصہ نہایت عمدہ اور خوبصورت رنگ میں پیش کیا اور کہا ”ہم اس نبی پر ایمان لائے ہیں۔اس کی تصدیق کی ہے۔اس کی تعلیم کو مانا اور قبول کیا ہے۔ہم خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کرتے ہیں۔جن چیزوں سے اس نے روکا ہے اس سے رکتے ہیں اور جو چیزیں اس نے ہمارے لئے جائز قرار دی ہیں ان کو جائز سمجھتے ہیں۔بس یہی ہمارا جرم ہے جس کی بناء پر ہماری قوم نے ہم پر زیادتیاں کیں اور ہمیں سخت اذیتوں اور تکلیفوں میں مبتلا کر کے ہمارے دین سے برگشتہ کرنا چاہا تا کہ ہم خدائے واحد کی عبادت کی بجائے بتوں کی پوجا کریں اور گندی اور ناپاک چیزوں کو حلال جائیں۔جب ان کے ظلم اور زیادتیاں انتہا کو پہنچ گئیں۔انہوں نے ہمیں اپنے دین پر آزادی سے عمل کرنے سے روک دیا تو ہم اپنا وطن چھوڑ کر آپ کے ملک میں پناہ لینے چلے آئے۔ہم آپ کے عدل و انصاف کی شہرت کی وجہ سے کسی اور کی بجائے آپ کی پناہ حاصل کرنے کی اُمید پر یہاں چلے آئے۔اے بادشاہ! ہمیں پوری اُمید ہے کہ اس ملک میں ہم پر کوئی ظلم یا زیادتی روا نہیں رکھی جائے گی۔“ نجاشی حضرت جعفر کی اس تقریر سے بہت متاثر ہوا اور کہنے لگا کہ وہ دعویدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کلام لے کر آیا ہے، اس میں سے کچھ تمہارے پاس موجود ہے؟ حضرت جعفر نے اثبات میں