سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 229
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 229 حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے انہیں بتائیں کہ ہمارے کچھ ناسمجھ نوجوان اپنا دین چھوڑ کر ایک نیا دین اختیار کر چکے ہیں اور تمہارے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے اور ایک بالکل نئے دین کے ساتھ جسے نہ ہم جانتے ہیں نہ آپ۔یہ لوگ آپ کے ملک میں آکر پناہ گزیں ہو گئے ہیں اور ہم جو اپنی قوم کے فہمیدہ اور دانا سردار ہیں،شاہ حبشہ سے ملاقات کر کے انہیں واپس لے جانے کیلئے درخواست کرنا چاہتے ہیں اس لئے جب بادشاہ آپ حضرات سے مشورہ کرے تو آپ لوگ بھی یہی سفارش کریں کہ وہ ان کا موقف سنے بغیر ہمارے سپرد کر دے۔ہم لوگ ان کے عیوب ونقائص کو خوب جانتے ہیں۔جرنیلوں نے بالاتفاق ان سفیروں سے یہی کہا کہ ہم ایسا ہی کریں گے۔سفرائے مکہ نے شاہ نجاشی کو بھی تحائف پیش کئے اور اپنا موقف پیش کر کے یہ کہا کہ یہ ناسمجھ نوجوان ہمارے عزیز و اقارب میں سے ہیں۔انہیں ہمارے سپرد کر دیں تا کہ ہم انہیں مناسب سرزنش کر سکیں۔ان سفیروں کی تمام تر کوشش یہ تھی کہ کسی طرح نجاشی سے مسلمانوں کی بات سنے بغیر یہ فیصلہ کر والیا جائے۔بادشاہ نے جب اپنے جرنیلوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ اہل مکہ کے سفیر سچ کہتے ہیں۔یہ واقعی عقلمند اور صاحب بصیرت لوگ ہیں اور ان نوجوانوں کے نقص و عیب کو خوب جانتے ہیں۔انہیں ان کے ملک میں واپس لوٹا دینا چاہئے۔“ منصف مزاج شاہ نجاشی اس پر سخت غضبناک ہو کر کہنے لگا۔”خدا کی قسم ! ہرگز ہرگز ایسا نہیں ہو گا کہ وہ لوگ جو میرے ملک میں آکر میرے پاس پناہ گزیں ہوئے اور خاص میری پناہ حاصل کرنے کیلئے آئے۔میں اُن کی بات سنے بغیر کیسے ان کے حوالے کردوں۔“ مسلمانوں کو نجاشی کے دربار میں بلایا گیا۔وہ سخت مضطرب اور پریشان تھے کہ نہ جانے ان کے ساتھ کیا سلوک ہو۔مگر وہ خدا تعالیٰ پر کامل تو کل کرتے ہوئے شاہی دربار میں پیش ہوئے۔در باری پادری اپنے صحائف کے ساتھ موجود تھے۔نجاشی نے مسلمانوں سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم نے اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا۔نہ ہی پہلی کسی امت کا دین اختیار کیا نہ ہمارا دین۔“ اس موقع پر بادشاہ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے مسلمانوں کی طرف سے ان کی نمائندگی کا حق حضرت جعفر بن ابی طالب نے خوب ادا کیا۔انہوں نے اس موقع پر نہایت مدلل اور عمدہ اور