سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 228
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 228 حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حضرت جعفرم پنی بعض منفر د خصوصیات کے لحاظ سے بیگانہ روزگار تھے۔چنانچہ ایک موقع پر ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی حملے کے بہت ہی پیاروں حضرت زید ، حضرت علییؓ اور حضرت جعفر کے مابین یہ سوال پیدا ہو گیا کہ حضور کو زیادہ پیار کس سے ہے؟ کیونکہ حضور کے کمال لطف و کرم کی بدولت ہر ایک ان میں سے اپنے آپ کو حضور کی محبتوں کا مورد اور زیادہ پیارا جانتا تھا۔حضور سے پوچھا گیا تو آپ نے کمال شفقت سے سب پیاروں سے ہی دلداری فرمائی کہ سب ہی آپ کو محبوب تھے۔مگر حضرت جعفر سے جو فر مایا اسے سن کر بے محابا حضرت جعفر" پر پیار آتا ہے۔آپ نے فرمایا:۔ے جعفر تو تو خلق و خلق یعنی صورت و سیرت میں میرے سب سے زیادہ مشابہ اور قریب ہے (3) ہجرت حبشہ بلا شبہ یہ ارشاد رسول ﷺ حضرت جعفہ کیلئے دین و دنیا میں سند امتیاز سے کم نہیں۔حضرت جعفر نے ابتدائی زمانہ میں قبول اسلام کی سعادت پائی تھی۔مسلمانوں کیلئے مکہ میں حالات نا موافق تھے۔ان کو مصائب و آلام کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔حضرت جعفر نے بھی دیگر مسلمان مہاجرین کے ساتھ ملک حبشہ کی طرف ہجرت کا فیصلہ کیا۔اس سفر ہجرت میں آپ کی عظیم الشان قائدانہ صلاحیتیں ظاہر ہوئیں۔انہوں نے شاہ حبشہ کے شاہی دربار میں اسلامی وفد کی نمائندگی کا حق خوب ادا کیا۔حضرت ام المومنین ام سلمہ بیان فرماتی ہیں کہ ”جب ہم نے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور شاہ حبشہ نجاشی کی پناہ حاصل کی تو یہ بہت خیر و برکت کی پناہ ثابت ہوئی۔ہمیں مکمل مذہبی آزادی نصیب تھی اور ہم بلا روک ٹوک عبادت کرتے تھے۔کسی قسم کی ناپسندیدہ زبانی یا جسمانی ایذارسانی کا سوال تک نہیں تھا۔جب قریش کو اس صورتحال کا علم ہوا تو انہوں نے دو معتبر قریشی سرداروں عبد اللہ بن ربیعہ اور عمر و بن العاص کو سفیر بنا کر مکہ کی عمدہ چیزوں کے تحائف کے ساتھ حبشہ بھجوایا۔اس زمانہ میں اہل حبشہ مکہ سے چمڑا منگوایا کرتے تھے۔چنانچہ مکہ والوں نے چمڑے کی کئی عمدہ مصنوعات حاصل کر کے حبشہ کے تمام بڑے بڑے سرداروں اور جرنیلوں کیلئے تحائف بھجوائے۔اپنے سفراء کو ہدایت کی کہ نجاشی سے ملاقات سے پہلے ہر بڑے سردار اور جرنیل کو یہ تحائف پیش کر