سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 220 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 220

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 220 حضرت عباس بن مطلب رضی اللہ عنہ مسلح لشکر مدینہ کی طرف روانہ ہو چکا ہے آپ اپنا انتظام کر لیں قباء میں حضور کو یہ خط ملا آپ نے فوری طور پر صحابہ سے مشورہ کیا۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے نواح مدینہ کے حالات معلوم کرنے کیلئے کچھ لوگ مقرر کر دئے جو آپ کو تازہ خبر پہنچاتے رہیں اور مدینہ کی حفاظت اور پہرہ کا سلسلہ شروع کر دیا گیا اور بالآخر مسلمانوں کے مشورے سے مدینہ کے باہر جا کر دشمن کے مقابلہ کا فیصلہ کیا گیا اور احد میں یہ معرکہ پیش آیا۔اس طرح حضرت عباس کی بروقت اطلاع سے مدینہ اچانک حملہ سے محفوظ رہا۔(16) فتح خیبر کے موقع پر حضرت عباس مکہ میں ہی تھے۔ایک شخص حجاج نامی نے مسلمانوں کی شکست کی خبر اڑا دی۔حضرت عباس صخت پریشان ہوئے۔بعد میں خیبر کی فتح کا علم ہوا تو رسول کریم سے ملاقات کیلئے مکہ سے روانہ ہوئے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ سے حصہ مقام پر ان کی ملاقات ہوئی۔نبی کریم نے حضرت عباس کو غنیمت خیبر سے حصہ عطا فرمایا اور دوسو وسق (قریباً نو صدمن) کھجور سالانہ بھی مقررفرمائی۔اس کے بعد حضرت عباس جملہ غزوات فتح مکہ، حنین، طائف اور تبوک میں رسول کریم کے ساتھ شریک رہے۔(17) سفر فتح مکہ میں جب حضرت عباس کی جھہ میں رسول کریم ﷺ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا يَا عَمَ إِنَّكَ خَاتَمُ المُهَاجِرِينَ فِى الهِجْرَةِ كَمَا أَنَا خَاتَمُ النَّبِينَ فِي النبوة (18) کہ اے میرے چا! آپ ہجرت میں اسی طرح خاتم المہا جرین ہیں جس طرح میں نبوت میں خاتم النبین ہوں۔گویا حضرت عباس کا ارادہ ہجرت کے باوجود رسول اللہ کے ارشاد پر مکہ میں رہ کر اہم ذمہ داریاں ادا کرنا آپ کی ہجرت کی شان بڑھا گیا کہ آپ سب مہاجرین میں ہجرت کے لحاظ سے بلند مرتبہ اور افضل ٹھہرے۔اس موقع پر خاتم کے معنے بھی خوب کھل کر سامنے آگئے کہ اس سے محض زمانی لحاظ سے آخری فرد مراد نہیں ہوتا بلکہ فضیلت و مرتبت میں آخری کا مفہوم ہوتا ہے ورنہ حضرت عباس کے بعد ہمیشہ کیلئے ہجرت کا خاتمہ اور مہاجر کا لقب ممنوع ماننا پڑے گا۔جو خلاف واقعہ ہے۔فتح مکہ کی رات جب حضرت عمر گشت کے دوران ابوسفیان کو گرفتار کر لائے تو حضرت عباس