سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 221 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 221

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 221 حضرت عباس بن مطلب رضی اللہ عنہ نے اسے پناہ دی اور یوں مکہ کی قیادت اس طرح ٹوٹ گئی کہ فتح مکہ کے موقع پر کفار کی طرف سے کوئی بڑی مزاحمت نہ ہو سکی۔غزوہ حنین میں حضرت عباس رسول اللہ علیہ کے شانہ بشانہ ہوکر لڑے۔ان کا اپنا بیان ہے کہ میں اور رسول اللہ ﷺ کے چچا ابوسفیان بن حارث آپ کے ساتھ چھٹے رہے اور آپ سے کسی حال میں جدا نہیں ہوئے۔حضور سفید خچر پر سوار تھے۔حضرت عباس نے اس کی لگام تھام رکھی تھی۔بنو ہوازن کے تیر اندازوں کے اچانک حملہ سے مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی۔حضرت عباس جو بلند آواز تھے وہ کمال حکمت سے جوش دلا کر اصحاب رسول ﷺ کو آواز دینے لگے کہ کہاں ہیں حدیبیہ کے موقع پر بیعت کرنے والے؟ حضرت عباس بیان کرتے ہیں کہ میری اس آواز پر صحابہ میدان میں اس طرح واپس پلٹے جیسے گائے اپنے بچے کی آواز پر پلٹتی ہے۔وہ لبیک لبیک کہتے ہوئے آئے اور کفار سے ڈٹ کر مقابلہ کرنے لگے۔پھر حضرت عباس نے انصار کو آواز دی۔پھر باری باری ان کے قبائل کے نام لے کر بلایا یہاں تک کہ میدان جم گیا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ”اب میدان جنگ خوب تپ گیا ہے۔پھر آپ نے کنکروں کی مٹھی لے کر کفار پر پھینکی اور فرمایا محمد اللہ کی قسم اب یہ پسپا ہو گئے۔‘ (19) مقام وفضائل رسول کریم علیہ حضرت عباس کی بہت عزت اور اکرام فرماتے تھے۔آپ نے فرمایا ” عباس میرے بقیہ آباؤ اجداد میں سے ہیں۔جس نے انہیں اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور چا بھی باپ کے قائمقام ہوتا ہے۔“ (20) حضرت عباس نہایت دانش مند اور صائب الرائے تھے اور خاندان قریش کے رحمی رشتوں کے نمائندہ اور انکے ساتھ احسان کا سلوک کرنے والے تھے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا عباس قریش میں سے زیادہ سخی اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔چنانچہ حضرت عباس نے ستر غلام آزاد کئے۔(21) رسول اللہ اللہ کے ہاں حضرت عباس کا ایک خاص مقام و مرتبہ تھا اور صحابہ ان کی یہ فضیلت