سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 219 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 219

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرمائی۔(14) 219 حضرت عباس بن مطلب رضی اللہ ی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کی عجیب شان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مذکورہ بالا فرمان کے مطابق اس کے بعد حضرت عباس گو اس فدیہ سے کئی گنا زیادہ مال عطا کرنے کے سامان ہوئے۔جیسا کہ اسیران بدر کے بارہ میں سورۃ انفال کی آیت 71 میں بھی وعدہ تھا۔حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ یہ آیت حضرت عباس اور دیگر اسیران بدر کے بارہ میں اتری تھی کہ اے نبی ! تمہارے ہاتھ میں جو قیدی ہیں انہیں کہہ دے کہ اگر اللہ تمہارے دلوں میں ”خیر معلوم کرے گا تو جو ( فدیہ ) تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تمہیں عطا کرے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔خود حضرت عباس بیان کرتے تھے کہ مجھ سے ہیں اوقیہ سونا فدیہ لیا گیا تھا اس کی جگہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بیس غلام عطا کئے جن میں سے ہر ایک کی قیمت ہیں اوقیہ تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے زمزم عطا کیا جو مکہ کے سب اموال سے بڑھ کر مجھے عزیز ہے۔( ابولہب کی موت کے بعد یہ ذمہ داری براہ راست حضرت عباس کے حصہ میں آئی تھی اور اب میں اپنے رب سے اس آیت میں کئے گئے آخری وعدہ مغفرت کا امیدوار ہوں۔فتح بحرین کے بعد جب اموال غنیمت آئے تو رسول کریم ﷺ نے حضرت عباس سے کہا کہ اس میں سے جتنا چاہیں لے لیں حضرت عباس نے ایک گٹھڑی بنالی جو اتنی بھاری تھی کہ اکیلے اٹھا نہ سکے اور رسول کریم سے کہا کہ اٹھواد ہیں۔حضور مسکرائے اور فرمایا کہ گٹھڑی کو ہلکا کر کے جتنی طاقت ہے اتنا خود ہی اٹھائیں۔حضرت عباس یہ مال لے کر کہتے جاتے تھے کہ اللہ کا وعدہ تھا جو پورا ہوا کہ جو تم سے لیا اس سے بہتر دے گا۔‘ (15) غزوات میں شرکت بدر کا بدلہ لینے کیلئے کفار مکہ نے اگلے سال پھر جنگ کی تیاری کی اور احد کا معرکہ پیش آیا۔جس کیلئے تین ہزار کا لشکر لے کر وہ مکہ سے نکلے جس میں تین ہزار اونٹ سات سوزرہ پوش اور دوسو گھڑ سوار تھے، حضرت عباس نے یہ تیاریاں دیکھیں تو بنی غفار کا ایک شخص اس شرط سے اجرت پر لیا کہ وہ ان کا خط تین دن کے اندر رسول کریم ﷺ کو مدینہ پہنچائے۔اس میں اطلاع تھی کہ قریش کا تین ہزار کا صلى