سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 96
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 96 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سنا۔آپ دعا کر رہے تھے کہ اے اللہ! عثمان کو بہت دے اے اللہ عثمان پر بہت فضل فرما۔(56) صلہ رحمی حضرت عثمان صلہ رحمی کرتے ، اعز واحباب سے محبت و احسان سے پیش آتے تھے۔بھوکوں کو کھانا کھلاتے اور زیر بار لوگوں کے بوجھ اُٹھاتے تھے۔دوستوں کو ضرورت پر بڑی بڑی رقوم قرض دیتے۔(57) بعض دفعہ قرض واپس بھی نہ لیتے ایک دفعہ حضرت طلحہ سے ایسا ہی معاملہ فرمایا اور فرمانے لگے کہ یہ آپ کی مروت کا صلہ ہے۔حضرت عثمان کو اپنی شہادت کا اشارہ مل چکا تھا۔چنانچہ شہادت کے موقع پر قریباً دو ماہ تک جب آپ کے گھر کا محاصرہ کیا گیا اس محصوری کے دور میں جس ضبط و قتل کا آپ نے مظاہرہ کیا اور صحابہ کی طرف سے باغیوں کے مقابلے کی بار بار کی درخواستیں رڈ فرما دیں تا کہ امت میں قتل و خون نہ ہو۔آپ فرماتے تھے کہ میں خلیفۃ الرسول ہو کر مسلمانی کا دعوی کرنے والوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنا نہیں چاہتا۔انہی اخلاق کریمہ پر قائم رہتے ہوئے آپ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔(58) حضرت عائشہ نے آپ کی شہادت پر فرمایا کہ عثمان سب سے بڑھ کر صلہ رحمی کرنے والے اور سب سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے والے تھے۔(59) حضرت علی سے آپ کے بارہ میں پوچھا گیا تو فرمانے لگے وہ ایسا شخص ہے جو ملا اعلی یعنی در بار خداوندی میں بھی ” ذوالنورین کہلاتا ہے۔(60) حضرت عثمان کو اپنے بابرکت دور میں اہم خدمات کی توفیق ملی۔فتوحات اور انتظامی اصلاحات کے علاوہ مسجد نبوی کی تعمیر و توسیع بھی آپ کی ایک اہم خدمت ہے۔مسجد نبوی کی تعمیر و توسیع کی خدمت عہد نبوی میں بھی توسیع مسجد کی ضرورت کے پیش نظر حضرت عثمان نے قریبی قطعہ زمین خرید کر مسجد کی توسیع کروائی تھی۔