سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 97
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 97 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اپنے دور خلافت میں 24ھ میں پھر توسیع کا ارادہ کیا لیکن قرب مسجد نبوی میں رہنے والے لوگ کافی معاوضہ کے باوجود بھی راضی نہ ہوئے۔پانچ سال بعد پھر صحابہ سے مشورہ کے بعد آپ نے ایک خطبہ جمعہ میں توسیع مسجد نبوی کی خصوصیت سے تحریک کرتے ہوئے نہایت مؤثر تقریر کی جس کے نتیجہ میں لوگوں نے خوشی سے اپنے مکانات پیش کر دئے۔اور آپ نے نہایت اہتمام سے اور ذاتی نگرانی میں اپنے عمال کے ذریعہ دس ماہ کے قلیل عرصہ میں اینٹ چونا اور پتھر کی خوبصورت اور مضبوط تعمیر کر کے مسجد کی لمبائی میں پچاس گز کا اضافہ کیا۔جبکہ چوڑائی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔(61) حفاظت قرآن کا کارنامہ آپ کا ایک اور کارنامہ قرآن شریف کی حفاظت کی خاطر ایک قرآت قریش پر جمع و تدوین کر کے تمام اسلامی ممالک میں اس کی اشاعت عام کرنا ہے۔اس کے نتیجہ میں قرآن شریف ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گیا۔آپ کا یہ کارنامہ رہتی دنیا تک یا درکھا جائے گا۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت ابو بکر نے جنگ یمامہ میں حفاظ کے کثرت سے قتل ہونے کے بعد قرآن شریف کی متفرق تحریرات کو ایک جلد میں اکٹھا کروا دیا تھا۔یہ مستند صحیفہ حضرت ابوبکر کی اپنی تحویل میں رہا پھر حضرت عمر کی حفاظت میں آیا ان کی وفات کے بعد ام المومنین حضرت حفصہ نے مجموعہ سنبھالا۔حضرت عثمان کے زمانہ میں حضرت حذیفہ بن الیمان ان کی خدمت میں حاضر ہوئے انہیں شام اور عراق کی جنگوں میں شرکت کا موقع مل چکا تھا۔وہاں نہیں مختلف ممالک واقوام میں رائج قرآنی قراءتوں کے اختلاف سے اندیشہ ہوا کہ یہ سلسلہ بڑھ کر کوئی مشکلات پیدا نہ کرے۔انہوں نے حضرت عثمان سے عرض کیا کہ یہود و نصاری کا اپنی کتاب میں اختلاف سے جو انجام ہوا اس کی نوبت سے پہلے مسلم امہ کی فکر کر لیں اور قرآن شریف کو سات قراء توں کی بجائے ایک قراءت پر رائج کر دیں۔حضرت عثمان نے حضرت حفصہ سے اولین مستند قرآنی صحیفہ منگوایا۔پھر حضرت عثمان نے حضرت زید بن ثابت انصاری ، عبد اللہ بن زبیر ، سعید بن العاص ،عبدالرحمان بن حارث بن ہشام کو حکم دیا اور انہوں نے اس کی نقول تیار کیں۔حضرت عثمان نے موخر الذکر تینوں قریش صحابہ سے کہا