سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 95 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 95

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 95 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرمائی کہ وہ لوگ جو خانہ کعبہ کے قریب ارد گرد گھروں میں رہتے ہیں وہ خانہ خدا کے لئے خالی کرسکیں تو اُن کو گرا کر مسجد حرام کو وسیع کر دیا جائے۔وہ بیچارے ایسا نہیں کر سکے کیونکہ اُن میں دوسری جگہ گھریا مکان خریدنے کی استطاعت نہیں تھی۔اس وقت بھی حضرت عثمان کام آئے۔انہوں نے دس ہزار دینار کی قربانی کی۔اُس زمانے میں یہ بہت بڑی مالی قربانی تھی جس کی مدد سے ان لوگوں کو دوسری جگہوں پر مکان خرید کر دئیے گئے جو خانہ کعبہ کے پاس آباد تھے۔حضرت ابوبکر کے زمانے میں مدینہ میں قحط پڑ گیا۔حضرت عثمان کا تجارتی قافلہ سب سے پہلے مدینے پہنچا اونٹوں کی قطاروں کی قطاریں غلہ سے لدی ہوئی تھیں۔مدینے کے تمام تا جر ا کٹھے ہو کر حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا بے شک منہ مانگا منافع لے لیں اور یہ قافلہ ہمیں بیچ دیں۔دس ہزار درہم کی مالیت پر بارہ ہزار درہم کی پیش کش ہوئی حضرت عثمان نے کہا کہ مجھے اس سے زیادہ منافع ملتا ہے۔میں اتنے میں نہیں دے سکتا کسی نے کہا کہ ہم پندرہ ہزار درہم دیتے ہیں یہ غلہ ہمیں بیچ دیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ ملتے ہیں۔مدینہ کے تاجر حیران تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم سب مدینہ کے باسی ہیں۔اس سے بڑی بولی آپ کو کس نے دی اور کون ہے جو اس سے زیادہ آپ کو دے رہا ہے؟ حضرت عثمان نے کہا کہ وہ میرا خدا ہے جو ایک درہم کے مقابلے پر مجھے دس درہم کی نوید سناتا ہے۔پھر حضرت عثمان نے اعلان کر دیا کہ میں ان تمام اونٹوں پر لدا ہوا مال مدینے کے غرباء کے لئے وقف کرتا ہوں۔حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ ایک جنگ میں مسلمانوں کا راشن ختم ہونے کے باعث فاقہ کی سخت تکلیف سے مسلمان سخت پریشان اور منافق خوش تھے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا آج غروب آفتاب سے قبل اللہ تعالیٰ تمہارے لئے رزق کے سامان فرما دے گا۔حضرت عثمان کو خبر ہوئی تو فرمایا اللہ اور اس کا رسول بالکل سچ فرماتے ہیں انہوں نے غلہ سے لدے ہوئے نو اونٹ رسول اللہ کی خدمت میں بھجوائے کہ ہدیہ قبول فرمائیں۔رسول اللہ یہ دیکھ کر بے حد خوش ہوئے اور منافقوں پر اوس پڑ گئی۔تب رسول اللہ نے ہاتھ اٹھائے اور عثمان کے لئے ایسی دعائیں کیں کہ اس سے پہلے یا بعد کسی کے حق میں ایسی دعائیں کرتے میں نے آپ کو نہیں