سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 49 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 49

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۹ حصہ اول مشہور ہے۔سالن ہر قسم کا اور ترکاری عام طور پر ہر طرح کی آپ کے دستر خوان پر دیکھی گئی ہے اور گوشت بھی ہر حلال اور طیب جانور کا آپ کھاتے تھے۔پرندوں کا گوشت آپ کو بہت مرغوب تھا اس لئے بعض اوقات جب طبیعت کمزور ہوتی تو تیتر ، فاختہ وغیرہ کے لئے شیخ عبد الرحیم صاحب نومسلم کو ایسا گوشت مہیا کرنے کو فرمایا کرتے تھے۔مرغ اور بٹیروں کا گوشت بھی آپ کو پسند تھا مگر بٹیرے جب سے کہ پنجاب میں طاعون کا زور ہوا کھانے چھوڑ دیئے تھے۔بلکہ منع کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس کے گوشت میں طاعون پیدا کرنے کی خاصیت ہے اور بنی اسرائیل میں اس کے کھانے سے سخت طاعون پڑی تھی۔حضور کے سامنے دو ایک دفعہ گوہ کا گوشت پیش کیا گیا مگر آپ نے فرمایا کہ جائز ہے۔جس کا جی چاہے کھا لے مگر رسول کریم نے چونکہ اس کی کراہیت فرمائی اس لئے ہم کو بھی اس سے کر اہمیت ہے۔اور جیسا کہ وہاں ہوا تھا یہاں بھی لوگوں نے آپ کے مہمان خانہ بلکہ گھر میں بھی کچھ بچوں اور لوگوں نے گوہ کا گوشت کھایا مگر آپ نے اسے اپنے قریب نہ آنے دیا۔مرغ کا گوشت ہر طرح کا آپ کھا لیتے تھے۔سالن ہو یا بھنا ہوا۔کباب ہو یا پلاؤ۔مگر اکثر ایک ران پر ہی گزارہ کر لیتے تھے۔اور وہی آپ کو کافی ہو جاتی تھی بلکہ کبھی کچھ بیچ بھی رہا کرتا تھا۔پلاؤ بھی آپ کھاتے تھے مگر ہمیشہ نرم اور گداز اور گلے ہوئے چاولوں کا اور میٹھے چاول تو کبھی خود کہہ کر پکوالیا کرتے تھے مگر گڑ کے اور وہی آپ کو پسند تھے۔عمدہ کھانے یعنی کباب۔مرغ۔پلاؤ یا انڈے اور اسی طرح فرنی میٹھے چاول وغیرہ تب ہی آپ کہہ کر پکوایا کرتے تھے جب ضعف معلوم ہوتا تھا۔جن دنوں میں تصنیف کا کام کم ہوتا یا صحت اچھی ہوتی ان دنوں میں معمولی کھانا ہی کھاتے تھے اور وہ بھی کبھی ایک وقت ہی صرف اور دوسرے وقت دودھ وغیرہ سے گزارہ کر لیتے۔دودھ ، بالائی۔مکھن یہ اشیاء بلکہ بادام روغن تک صرف قوت کے قیام اور ضعف کے دور کرنے کو استعمال فرماتے تھے اور ہمیشہ معمولی مقدار میں۔بعض لوگوں نے آپ کے کھانے پر اعتراض کئے ہیں مگر اُن بیوقوفوں کو یہ خبر نہیں کہ ایک شخص جو عمر میں بوڑھا ہے اور اُسے کئی امراض لگے ہوئے ہیں اور باوجود ان کے وہ تمام جہان سے مصروف پر کار ہے۔ایک جماعت بنا رہا ہے جس کے فرد فرد پر اُس کی نظر ہے۔