سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 48 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 48

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۸ حصّہ اوّل تھی بلکہ آلتی پالتی مار کر بیٹھتے یا بائیں ٹانگ بٹھا دیتے اور دایاں گھٹنا کھڑا رکھتے۔کیا کھاتے تھے؟ میں نے پہلے ذکر کیا کہ مقصد آپ کے کھانے کا صرف قوت قائم رکھنا تھا نہ کہ لذت اور ذائقہ اُٹھانا۔اس لئے آپ صرف وہ چیزیں ہی کھاتے تھے جو آپ کی طبیعت کے موافق ہوتی تھیں اور جن سے دماغی قوت قائم رہتی تھی تا کہ آپ کے کام میں ہرج نہ ہو۔علاوہ بریں آپ کو چند بیماریاں بھی تھیں جن کی وجہ سے آپ کو کچھ پر ہیز بھی رکھنا پڑتا تھا مگر عام طور پر آپ سب طیبات ہی استعمال فرمالیتے تھے۔اور اگر چہ آپ سے اکثر یہ پوچھ لیا جاتا تھا کہ آج آپ کیا کھائیں گے مگر جہاں تک ہمیں معلوم ہے خواہ کچھ پکا ہو آپ اپنی ضرورت کے مطابق کھا ہی لیا کرتے تھے۔اور کبھی کھانے کے بدمزہ ہونے پر اپنی ذاتی وجہ سے تنگی نہیں فرمائی نہ کبھی ایسا ہوا کہ تندمزاج انسانوں کی طرح ہانڈی یا سالن کی رکابی اٹھا کر دے ماری ہو۔بلکہ اگر خراب پکے ہوئے کھانے اور سالن پر ناپسندیدگی کا اظہار بھی فرمایا تو صرف اس لئے اور یہ کہہ کر کہ مہمانوں کو یہ کھانا پسند نہ آیا ہوگا۔روٹی آپ آپ تندوری اور ہاتھ ( چولہے ) کی دونوں قسم کی کھاتے تھے ڈبل روٹی چائے کے ساتھ یا بسکٹ اور بکرم بھی استعمال فرمالیا کرتے تھے۔بلکہ ولایتی بسکٹوں کو بھی جائز فرماتے تھے اس لئے کہ ہمیں کیا معلوم کہ اس میں چربی ہے کیونکہ بنانے والوں کا ادعا تو مکھن ہے پھر ہم ناحق بدگمانی اور شکوک میں کیوں پڑیں۔مکئی کی روٹی بہت مدت آپ نے آخری عمر میں استعمال فرمائی کیونکہ آخری سات آٹھ سال سے آپ کو دستوں کی بیماری ہو گئی تھی اور ہضم کی طاقت کم ہو گئی تھی علاوہ ان روٹیوں کے آپ شیر مال کو بھی پسند فرمایا کرتے تھے اور باقر خانی اور کلچہ وغیرہ غرض جو جو اقسام روٹی کے سامنے آجایا کرتے تھے آپ کسی کو رد نہ فرماتے تھے۔سالن میں نے ابھی ذکر کیا آپ بہت کم کھاتے تھے۔گوشت آپ کے ہاں دو وقت پکتا تھا مگر دال آپ کو گوشت سے زیادہ پسند تھی یہ دال ماش کی یا اڑدھ کی ہوتی تھی جس کے لئے گورداسپور کا ضلع