سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 50
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصہ اول اصلاح امت کے کام میں مشغول ہے۔ہر مذہب سے الگ الگ قسم کی جنگ ٹھنی ہوئی ہے گورنمنٹ سے الگ قسم کے تعلقات ہیں۔دن رات تصانیف میں مصروف ہے جو نہ صرف اردو بلکہ فارسی اور عربی میں اور پھر وہی اُن کو لکھتا اور وہی کاپی دیکھتا۔وہی پروف درست کرتا اور وہی اُن کی اشاعت کا انتظام کرتا ہے۔پھر سینکڑوں مہمانوں کے ٹھہر نے اتر نے اور علی حسب مراتب کھلانے کا انتظام۔مباحثات اور وفود کا اہتمام۔پنج وقتہ نمازوں کی حاضری۔مسجد میں روزانہ مجلسیں اور تقریر ہیں۔ہر روز بیسیوں آدمیوں سے ملاقات اور پھر ان سے طرح طرح کی گفتگو۔مقدمات کی پیروی۔روزانہ سینکڑوں خطوط پڑھنے اور پھر ان میں سے بہتوں کے جواب لکھنے پھر گھر میں اپنے بچوں اور اہل بیت کو بھی وقت دینا۔اور باہر گھر میں بیعت کا سلسلہ اور نصیحتیں اور دعائیں۔غرض اس قدر کام اور دماغی محنتیں اور تفکرات کے ہوتے ہوئے اور پھر تقاضائے عمر اور امراض کی وجہ سے اگر صرف اس عظیم الشان جہاد کے لئے قوت پیدا کرنے کو وہ شخص بادام روغن استعمال کرے تو کون بیوقوف اور ناحق شناس ظالم طبع انسان ہے جو اس کے اس فعل پر اعتراض کرے۔کیا وہ نہیں جانتا کہ بادام روغن کوئی مزیدار چیز نہیں اور لوگ لذت کے لئے اس کا استعمال نہیں کرتے۔پھر اگر مزے کی چیز بھی استعمال کی تو ایسی نیت اور کام کرنے والے کے لئے تو وہ فرض ہے۔حالانکہ ہمارے جیسے کاہل الوجود انسان کے لئے وہی کھانے تشویش میں داخل ہیں۔اور پھر جس وقت دیکھا جائے کہ وہ شخص ان مقوی غذاؤں کو صرف بطور قُوت لا يموت اور سدِ رمق کے طور پر استعمال کرتا ہے تو کون عقل کا اندھا ایسا ہو گا کہ اس خوراک کو لذائذ حیوانی اور حظوظ نفسانی سے تعبیر کرے۔خدا تعالیٰ ہر مومن کو بدظنی سے بچائے۔دودھ دودھ کا استعمال آپ اکثر رکھتے تھے اور سوتے وقت تو ایک گلاس ضرور پیتے تھے اور دن کو بھی پچھلے دنوں میں زیادہ استعمال فرماتے تھے۔کیونکہ یہ معمول ہو گیا تھا کہ ادھر دودھ پیا اور اُدھر دست آ گیا اس لئے بہت ضعف ہو جاتا تھا۔اس کے دور کرنے کے لئے دن میں تین چار مرتبہ تھوڑا تھوڑا