سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 34
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام انگشتری ۳۴ حصّہ اوّل حضرت مسیح موعود علیہ السلام انگوٹھی پہنا کرتے تھے اور آپ نے تین قسم کی انگوٹھیاں تیار کرائی تھیں۔ایک پر الیسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَہ کھدا ہوا تھا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے۔دوسری انگوٹھی پر الہام غَرَسُتُ لَكَ بِيَدِى رَحْمَتِي وَ قُدْرَتِي الخ درج تھا اور تیسری پر مولی بس۔یہ حضرت صاحب کا الہام نہیں بلکہ یہ ایک خاص رویا سے تعلق رکھتا ہے جیسا کہ میں آگے چل کر انشاء اللہ اس کے متعلق بیان کروں گا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اس انگوٹھی کے متعلق لکھا ہے کہ :- تیسری وہ جو آخری سالوں میں تیار ہوئی اور جو وفات کے وقت آپ کے ہاتھ میں تھی۔یہ انگوٹھی آپ نے خود تیار نہیں کروائی بلکہ کسی نے آپ سے عرض کیا کہ میں حضور کے واسطے ایک انگوٹھی تیار کروانا چاہتا ہوں اس پر کیا لکھواؤں حضور نے جواب دیا ” مولی بس“ چنانچہ اس شخص نے یہ الفاظ لکھوا کر انگوٹھی آپ کو پیش کر دی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے وقت ایک شخص نے یہ انگوٹھی آپ کے ہاتھ سے اتار لی تھی پھر اس سے والدہ صاحبہ نے واپس لے لی۔حضرت مسیح موعود کی وفات کے ایک عرصہ بعد والدہ صاحبہ نے ان تینوں انگوٹھیوں کے متعلق ہم تینوں بھائیوں کے لئے قرعہ ڈالا۔أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ والی انگوٹھی بڑے بھائی صاحب یعنی حضرت خلیفہ اسیح ثانی کے نام نکلی۔غَرَسُـتُ لَكَ بِيَدِي رَحْمَتِي وَ قُدْرَتِی والی خاکسار کے نام اور مولی بس والی عزیزم میاں شریف احمد صاحب کے نام نکلی۔ہمشیرگان کے حصہ میں دو اور اسی قسم کے تبرک آئے۔“ سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر ۱۶ مطبوعه ۲۰۰۸ء)