سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 35
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا علیہ السلام ۳۵ حصّہ اوّل پہلی انگوٹھی کس طرح تیار ہوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ پہلی انگوٹھی حضرت مرزا غلام مرتضی خان صاحب مرحوم کی وفات کے بعد تیار ہوئی اور وہ ایک نشان ہے سیرت مسیح موعود کی پہلی جلد کے پہلے نمبر میں اس کے متعلق میں مفصل لکھ چکا ہوں۔دیکھو صفحہ ۸۵۔( حیات احمد جلد اصفحہ ۱۳۲ ۱۳۳۰) مختصر یہ ہے کہ مرزا صاحب قبلہ مرحوم کی وفات کے متعلق جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ الہام اطلاع دی تو آپ فرماتے ہیں کہ " بموجب مقتضائے بشریت کے مجھے اس خبر کے سننے سے درد پہنچا اور چونکہ ہماری معاش کے اکثر وجوہ اُنہیں کی زندگی سے وابستہ تھے اور وہ سرکار انگریزی کی طرف سے پنشن پاتے تھے اور نیز ایک رقم کثیر انعام کی پاتے تھے۔جو اُن کی حیات سے مشروط تھی۔اس لئے یہ خیال گذرا کہ اُن کی وفات کے بعد کیا ہوگا اور دل میں خوف پیدا ہوا کہ شاید تنگی اور تکلیف کے دن ہم پر آئیں گے اور یہ سارا خیال بجلی کی چمک کی طرح ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں دل میں گذر گیا تب اُسی وقت غنودگی ہو کر یہ دوسرا الہام ہوا۔اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ یعنی کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے؟ اس الہام الہی کے ساتھ ایسا دل قوی ہو گیا کہ جیسے ایک سخت دردناک زخم کسی مرہم سے ایک دم میں اچھا ہو جاتا ہے۔در حقیقت یہ امر بار ہا آزمایا گیا ہے کہ وحی الہی میں دلی تسلی دینے کے لئے ایک ذاتی خاصیت ہے اور جڑھ اس خاصیت کی وہ یقین ہے جو وحی الہی پر ہو جاتا ہے۔افسوس ان لوگوں کے کیسے الہام ہیں کہ باوجود دعویٰ الہام کے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ہمارے الہام طنفی امور ہیں نہ معلوم یہ شیطانی ہیں یا رحمانی۔ایسے الہاموں کا ضرر ان کے نفع سے زیادہ ہے مگر میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اُسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں