سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 33 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 33

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۳۳ حصّہ اوّل حلف اٹھانے کا نظارہ اس کے بعد میاں عبداللہ صاحب نے اپنا وہی بیان پڑھ کر سنایا جو ہم اوپر درج کر آئے ہیں۔اور ایسے درد ناک اور مؤثر لہجہ میں سنایا کہ مولوی ثناء اللہ کے حاشیہ نشینوں کے چہرے بھی قبولیت اثر کی شہادت دے رہے تھے۔اور جب میاں عبد اللہ صاحب نے اپنے تمام بیان کو پڑھ کر نہایت رقت آمیز لہجہ میں بایں الفاظ حلف اٹھائی کہ۔یہ ہے سچی عینی شہادت ! اگر میں نے جھوٹ بولا ہوتو لَعْنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِینَ کی وعید کافی ہے۔میں خدا کو حاضر ناظر جان کر اور اسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو کچھ میں نے پڑھا ہے سراسر سچ ہے۔اگر جھوٹ ہو تو مجھ پر خدا کی لعنت ! لعنت !! لعنت !! مجھ پر خدا کا غضب ! غضب !! غضب !!! تو سامعین کا نپ اٹھے۔اور جس کسی کے دل میں ایک ذرہ بھی خوف خدا تھا اس کا بشرہ بتا رہا تھا کہ اس پر خاص اثر ہوا ہے اور پھر جب میاں صاحب نے یہ کہا کہ میں نے یہ حلف تو اٹھالی ہے لیکن اگر مولوی صاحب کے نزدیک یہ کافی نہ ہو تو وہ خود جن الفاظ میں چاہیں مجھ سے قسم کھلا لیں میں اپنی اولا د۔اپنے مال اور اپنی جان۔غرضیکہ ہر چیز کی قسم کھانے کے لئے تیار ہوں۔اس وقت اپنے سامنے مولوی صاحب جس طرح چاہیں اپنی تسلی کر لیں۔میں نے اس سرخی کے نشان کو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ٹخنے پر پڑا تھا اپنی شہادت کی انگلی لگا کر دیکھا تھا۔اس سے میری انگلی کو بھی سرخی لگ گئی تھی۔اگر میں جھوٹ کہتا ہوں تو میری انگلی کیا میرے جسم کا ذرہ ذرہ جہنم میں ڈالا جائے۔اور سب سے بڑا جو عذاب ہے وہ مجھ پر نازل کیا جائے“۔اس طرح پر اس اعجاز نما کرتہ کے ذریعہ ثناء اللہ امرتسری پر اتمام حجت ہوئی۔یہ کر نہ جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے اب تک موجود ہے اور مولوی عبداللہ صاحب سنوری کے پاس ہے جو ان کے ساتھ دفن کیا جائے گا۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان سے یہی وعدہ لے کر یہ کر نہ عطا فرمایا تھا۔