سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 573 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 573

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام طرف دعوت دیتے ہوئے فرماتے ہیں ۵۷۳ ہزار سرزنی و مشکلے نه گردد حل چو پیش او بروی کار یک دعا باشد غرض یہی ایک چیز ہے جو ہر مشکل کی کلید ہے اور ہر درد کی دوا ہے۔اس لئے میں آپ کی دعاؤں کو بار بار پیش کر رہا ہوں کہ ہم خود دعاؤں کی عادت ڈالیں۔اب آپ کی اس ایک دعا کو پڑھو جو منظوم ہے اس سے اس مقصد عالی کا پتہ چلتا ہے جو آپ لے کر آئے اور آپ کی فطرت میں جو کرم اور شفقت اپنے دشمنوں تک کے لئے تھی اس کا اظہار ہوتا ہے۔آپ نے اپنے دشمنوں کے لئے بھی کبھی بددعانہیں کی یہاں تک کہ مباہلہ میں بھی اپنے لئے یہ دعا کی دوسرے کے لئے نہیں ایک مقام پر آپ فرماتے ہیں۔گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے اس سے اُس رحم وکرم کا کچھ اندازہ ہوتا ہے جو آپ کی فطرت میں اپنے دشمنوں تک کے لئے تھا اور یہ رحم وکرم اور شان عفو و در گذر اسی رحم و عفو کا عکس ہے جو آپ کے مطاع علیہ الصلوۃ والسلام کی فطرت میں خدا تعالیٰ نے ودیعت فرمایا تھا یہ واقعہ سب جانتے ہیں کہ باوجو یکہ مکہ کے کفار نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو مکی زندگی میں اس قدر دکھ دیا کہ اگر فتح مکہ کے بعد ان کو گولی سے اڑا دیا جاتا اور ان کے گوشت کا قیمہ کر کے کتوں کے آگے ڈال دیا جاتا تو دنیا کی کوئی عدالت اسے خلاف انصاف قرار نہ دیتی مگر اس رَحْمَةٌ لِّلْعَالَمِین نے فرمایا۔لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ - اور ان سب کو معاف کر دیا۔وہی شان آپ کے اس رحم میں جلوہ گر ہے باوجود ان اذیتوں اور تکلیفوں کے برداشت کرنے کے ان کی ہدایت کی دعا کرتے ہیں اور اسی دعا کو دہراتے ہیں جو آپ کے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دشمنوں کے لئے کی تھی۔اے اللہ ! ان کو ہدایت دے وہ جانتے نہیں۔یہی نہیں کہ اُن گالیاں دینے والوں کے لئے آپ دعا کرتے ہیں بلکہ یہی ہدایت اور تلقین اپنی جماعت کو بھی فرماتے ہیں۔ترجمہ۔تو ہزار کریں مارتا رہے مگر تیری مشکل حل نہیں ہوتی لیکن جب تو اُس کے سامنے جاتا ہے تو اُس کی ایک دعا کافی ہوتی ہے۔