سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 572
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۷۲ بھی وسیع کیا اور ہر میدان میں آپ کی تائید کی اور آپ کے دشمنوں کو خائب و خاسر کیا۔اور اس دعا کے بعد ہی رحمت وفضل کے کثیر نشان ظاہر ہوئے وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ میں نے یہ دو دعا ئیں بطور نمونہ بیان کی ہیں ورنہ آپ کی تصنیفات میں بہت سی ایسی دعائیں ملتی ہیں اور ایک شریف النفس انسان ان کو پڑھ کر کانپ اٹھتا ہے وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَّشَآءُ۔(۲۰۱۳) کافر کہنے والوں کے لئے دعا ( دشمنوں کے لئے جوش رحم ) اے خُدا تیرے لئے ہر ذرہ ہو میرا فدا مجھ کو دکھلا دے بہار دیں کہ میں ہوں اشکبار خاکساری کو ہماری دیکھ اے دانائے راز کام تیرا کام ہے ہم ہو گئے اب بے قرار اک کرم کر پھیر دے لوگوں کو فرقاں کی طرف نیز دے توفیق تا وہ کچھ کر میں سوچ اور بیچار گووہ کا فر کہہ کے ہم سے دُور تر ہیں جا پڑے انکے غم میں ہم تو پھر بھی ہیں حزین و دلفگار ہم نے یہ مانا کہ انکے دل میں پتھر ہو گئے پھر بھی پتھر سے نکل سکتی ہے دینداری کی نار کیسے ہی وہ سخت دل ہوں ہم نہیں ہیں نا امید آیت لَا تَيْسُوا رکھتی ہے دل کو استوار پیشہ ہے رونا ہمارا پیش رپ ڈوالیکن یہ شجر آخر کبھی اس نہر سے لائیں گے بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کامیابی کا سب سے بڑا حر بہ آپ کا آستانہ الہی پر گر کر دعائیں کرنا ہے۔جو انقلاب آپ کی بعثت نے پیدا کیا۔یہ ان دعاؤں ہی کا ثمرہ ہے خدا تعالیٰ کی ہستی کو دنیا میں آپ نے اس عہد الحاد میں جو آئینہ کر دیا اور ایک بصیرت افروز یقین اس پر پیدا کرایا وہ دعاؤں ہی کا نتیجہ ہے آپ کو اپنی دعاؤں کی قبولیت پر اس قدر ناز تھا کہ آپ اپنے دشمن کو خطاب کر کے فرماتے؎ عمارت ہمہ دوناں خراب خواہم ساخت اگر ز چشم رواں آبشار خود بکنم و اور کبھی دنیا کی ہر قسم کی مصیبتوں اور مشکلات میں مبتلا لوگوں کو بشارت دیتے اور اپنے مقام کی ترجمہ۔میں ان سب نالائقوں کی عمارت کو برباد کر کے رکھ دوں گا اگر میں اپنی آنکھوں سے ( آنسوؤں کا ) ایک چشمہ جاری کر دوں۔